کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
۱۔ دعوت و تبلیغ ( جس کے بانی مولانا الیاس رحمہ اللہ ہیں) کے لیے کچھ اوقات نکالے بغیر اگر کوئی شخص جہاد کے لیے چلا جائے تو اس کو جہاد کا ثواب ملے گا یا نہیں؟
۲۔ کیا بغیر تبلیغی جماعت میں نکلے ہوئے اس دور میں ایمان کی تکمیل ممکن ہے؟
۳۔ اس دور میں تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگانے کا کیا حکم ہے؟
1۔2۔3: واضح ہو کہ مطلقاً امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے کئی ایک درجات ہیں جن میں سے بعض فرض عین اور بعض فرض کفایہ بھی ہیں، اور حسبِ مراتب انکی پابندی لازم بھی ہے، جبکہ معروف تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگانا فی نفسہ جائز اور درجہ استحباب میں ہے اور احکاماتِ شرعیہ کی فکر اور پابندی شریعت کے معاملہ میں مجرب نسخہ ہے، تکمیلِ ایمان اور خروج الی الجہاد اس پر موقوف یا اس کے ساتھ لازم ملزوم نہیں۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ﴾(آل عمران: 110)۔
و فی الفتاوى الهندية: ذكر الفقيه في كتاب البستان أن الأمر بالمعروف على وجوه إن كان يعلم بأكبر رأيه أنه لو أمر بالمعروف يقبلون ذلك منه و يمنعون عن المنكر فالأمر واجب عليه و لا يسعه تركه و لو علم بأكبر رأيه أنه لو أمرهم بذلك قذفوه و شتموه فتركه أفضل و كذلك لو علم أنهم يضربونه و لا يصبر على ذلك و يقع بينهم عداوة و يهيج منه القتال فتركه أفضل و لو علم أنهم لو ضربوه صبر على ذلك و لا يشكو إلى أحد فلا بأس بأن ينهى عن ذلك و هو مجاهد و لو علم أنهم لا يقبلون منه و لا يخاف منه ضربا و لا شتما فهو بالخيار و الأمر أفضل،كذا في المحيط إذا استقبله الآمر بالمعروف و خشي أن لو أقدم عليه قتل فإن أقدم عليه و قتل يكون شهيدا كذا في التتارخانية (5/ 352)۔
و فی المبسوط: و رأس المعروف الإیمان باللہ تعالیٰ فعلیٰ کل مؤمنٍ أن یکون آمراً به داعیاً إلیه اه ( ۱۰/۲)۔