کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تبلیغی جماعت ساری دنیا میں دین کی محنت کر رہی ہے ، ان کے رہنے کی اصل جگہ مسجد ہی ہے، ان کا مسجدوں میں رہنا کیسا ہے؟ اسلامی شریعت کی روشنی میں اس کا کیا حکم ہے؟
جماعت کے لوگ عموماً مسافر ہوتے ہیں اور ان کا مقصد بھی لوگوں کو دین کی طرف راغب کرنا ہوتا ہے اور ایسے مسافر کے لیے مسجد میں رہنا، کھانا، پینا او رسونا شرعاً درست ہے۔
ففی الدر المختار: ويحرم فيه السؤال، ويكره الإعطاء مطلقا(الي قوله)وأكل، ونوم إلا لمعتكف وغريب اه
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وأكل ونوم إلخ) وإذا أراد ذلك ينبغي أن ينوي الاعتكاف، فيدخل ويذكر الله تعالى بقدر ما نوى، أو يصلي ثم يفعل ما شاء فتاوى هندية اھ(1/ 661) والله أعلم بالصواب!