اگر کوئی شخص والدین کی اجازت کے بغیر جماعت میں چلا جائے، جبکہ والدین نے سختی سے منع کیا ہو، تو جماعت میں جانا درست ہے یا نہیں اور اس جانے پر ثواب ہے یا گناہ؟
والدین اگر کسی معقول عذر مثلاً اپنے ضعف و پیری، بیماری یا اپنی خدمت کی وجہ سے جماعت کے ساتھ سفر کرنے سے روکتے ہوں تو اولاد کو والدین کے مخالفت کر کے جماعت میں جانا درست نہیں، بلکہ والدین کی نافرمانی اور ایذا رسانی کا گناہ ہوگا، ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کو درست کرنے کی کوشش کے ساتھ علاقے میں مقامی کام کرنے والی جماعت کے ساتھ کام میں شمولیت اختیار کرے، تو ان شاء اللہ جماعت میں شرکت کا مقصد بھی حاصل ہوگا اور والدین کی نا فرمانی سے بھی بچ جائے گا اور جب والدین اجازت دیدیں تو تبلیغی سفر میں جانےمیں بھی حرج نہیں، بلکہ بڑا اجر ہے۔
کمافي الدر المختار: (لا) يفرض (على صبي) وبالغ له أبوان أو أحدهما؛ لأن طاعتهما فرض عين "وقال - عليه الصلاة والسلام - للعباس بن مرداس لما أراد الجهاد الزم أمك فإن الجنة تحت رجل أمك" سراج وفيه لا يحل سفر فيه خطر إلا بإذنهما. وما لا خطر فيه يحل بلا إذن ومنه السفر في طلب العلم اھ (4/124)
وفي ردالمحتار: تحت (قوله فيه خطر) كالجهاد وسفر البحر (إلى قوله) (قوله وما لا خطر) كالسفر للتجارة والحج والعمرة يحل بلا إذن إلا إن خيف عليهما الضيعة سرخسي (قوله ومنه السفر في طلب العلم)؛ لأنه أولى من التجارة إذا كان الطريق آمنا ولم يخف عليهما الضيعة سرخسي اھ (4/125)