کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام و علماءِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ تبلیغی حضرات جو اوقات، مثلاً سہ روزہ ، چلہ،چارماہ ،سات ماہ وغیرہ بتاتے ہیں،ان کا قرآن و حدیث میں ثبوت ہو تو رہنمائی فرمائیں ، جبکہ بریلوی حضرات یہ کہتے ہیں کہ آپ لوگ ہمیں تو منع کرتے ہیں کہ عبادات میں وقت مقرر کرنا بدعت ہے تو پھر آپ لوگوں نے کیوں اوقات مقرر کۓ ہوئے ہیں ؟تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔
بدعت کے متعلق مشہور حدیث مبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ : ’’من أحدث فی أمرنا ھذا فھو ردّ‘‘۔ علماءِ کرام اور محدثین کے نزدیک ’’أمرنا‘‘سے مراد دین ہے ، اوربدعت کی تعریف میں بھی اکثر علماءِ امت نے ’’فی الدین‘‘ کی قید ذکر کی ہے ، اس لۓ احادیثِ مبارکہ اور علماء حضرات کی تصریحات سے یہ بات واضح اور عیاں ہوتی ہے کہ جو عمل ’’فی الدین‘‘ یعنی دین کے اندر بطورِ اضافہ و کمی بیشی کے ہو اور اسے دین قرار دیکر اور عبادات وغیرہ دینی امور کی طرح ثواب اور رضائے الٰہی کا ذریعہ سمجھ کر کیا جائے، حالانکہ شریعت میں اس کی کوئی دلیل نہ ہو ، نہ قرآن و سنت سے، نہ قیاس و اجتہاد سے ، تو یہ بدعت ہے ، اور جو نیا کام ’’للدین‘‘ ہو ، یعنی دین کے استحکام و مضبوطی اور دینی مقاصد کی تکمیل و تحصیل کے لیے ہو ، اُسے بدعتِ ممنوعہ نہیں کہاجا سکتا جیسے جمعِ قرآن کا مسئلہ ، کتب حدیث اور ان کی شروحات لکھنا ، اسی طرح احکامِ فقہ کو مدوّن کرنا اور مذاہبِ اربعہ کی تعیین اور مدارس و مکاتب اور خانقاہیں بنانا ، ان تمام امور کو بدعت کہنا درست نہیں۔
اسی طرح دعوت و تبلیغ کے لیے بزرگانِ دین نے جو اوقات مقرر کۓ ہیں ، وہ بھی ’’للدین‘‘ ہیں ، یعنی دین کے ایک اہم شعبہ أمر بالمعروف و نہی عن المنکر ،اور دعوت کی تعیین کی گئی ہے ، اور قرآن و حدیث میں دعوت و تبلیغ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی جو بار بار تاکید آئی ہے ،وہ کسی سے مخفی نہیں ،سہ روزہ،چلہ، اورچارماہ وغیرہ محض لوگوں کی سہولت و آسانی کی خاطر مقرر کۓ گئے ہیں، ورنہ یہ نہ تو اصلاً مقصود ہیں،اور نہ ہی صرف ان اوقات کو عبادت اور ثواب کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، بلکہ اصل مقصود اشاعتِ دین ، دعوتِ دین ، اپنی اصلاح اور پوری امت کی اصلاح کرنا ، اور اسی کی مشق کرناہے ، اس لیے اسے بدعت کہنا غلط اور دین سے ناواقفیت پر مبنی ہے، اور بریلویوں کا اس پر معترض ہونا ، یا اس طرزِ عمل کو اپنی بدعات کیلۓ دلیل قرار دینا بےجا اور عذرِ لنگ کے مترادف ہے۔
فی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح : عن عائشة رضي الله عنها ، قالت : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: ( «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد» ) متفق عليه(1/ 221)۔
و فی مرقاة المفاتيح : قال القاضي : المعنى من أحدث في الإسلام رأيا لم يكن له من الكتاب و السنة سند ظاهر أو خفي ملفوظ أو مستنبط فهو مردود عليه ، قيل : في وصف الأمر بهذا إشارة إلى أن أمر الإسلام كمل و انتهى و شاع و ظهر ظهور المحسوس بحيث لا يخفى على كل ذي بصر و بصيرة اھ(1/ 222)۔
و فی فيض الباري على صحيح البخاري : عَنْ أَبِى وَائِلٍ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُ النَّاسَ فِى كُلِّ خَمِيسٍ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ . قَالَ أَمَا إِنَّهُ يَمْنَعُنِى مِنْ ذَلِكَ أَنِّى أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، وَ إِنِّى أَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ كَمَا كَانَ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - يَتَخَوَّلُنَا بِهَا ، مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا .(الی قوله) يريد أن مثل هذه التعينات لا تُعَدُّ بِدعةً، والبدعة عندي ما لا تكون مستندةً إلى الشرع ، و تكون ملتبسةً بالدين ، و لذا يقال إن الرسوم التي جرت في المصائب بدعة دون التي في مواضع السرور ، كالأنكحة و غيرها فإن الأولى تُعَد كأنّها من الدين فتلتبس به بخلاف الثانية اھ(1/ 252)۔