السلام علیکم! ایک اسلامی معاملہ کے سلسلے میں آپ سے فتویٰ درکار ہے امید ہے کہ آپ اس ذہنی الجھن کو دور کرنے میں مدد فرمائیں گے۔
میں نے بہت پہلے یہ سنا تھا اور شاید پڑھا بھی تھا کہ حج جیسا اجتماع یا حج سے ملتا جلتا اجتماع منع ہے، میرے بہت سے عزیز اور دوست رائے ونڈکے اجتماع میں شرکت کرنے بڑے شوق سے جاتےہیں اور ساتھ مجھے بھی چلنے کو کہتے ہیں، مگر میں ان کے کہنے کے باوجود نہیں جاتا ، کیا میں نہیں جانے کی وجہ سے گناہ کا مرتکب تو نہیں ہوتا یا میری معلومات درست ہیں؟
رائے ونڈ میں محض تبلیغی اور اصلاحی فکر دینے کے لیے اجتما ع ہوتا ہے جس میں شریک ہونا باعثِ ثواب ہے کیونکہ اس سے نہ تو حج کی مشابہت مقصود ہوتی ہے اور نہ ہی حج جیسے امور انجام دیئے جاتے ہیں، اس لیے اس اجتماع کو بغیر کسی وجہ کے اجتماعِ حج کے مشابہ قرار دیکر معترض ہونا انتہائی نامناسب حرکت ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
ففی جمع الفوائد: عن ابو الدرداء - رضی اللہ عنه - قال قال رسو ل اللہ - صلى الله عليه وسلم - لیبعثن اللہ اقواما یوم القیامة فی وجوھھم النور علی منابر اللولؤ ، لیغبطھم الناس، لیسوا بانبیاء و لا شھداء ،قال فجثی اعرابی علی رکبتیه فقال: یا رسول اللہ - صلی اللہ علیه وسلم- صفھم لنا نعرفھم قال المتحابون فی اللہ من قبائل شتی و بلاد شتی ، یجتمعون علی ذکر اللہ یذکرونه اھ(ج/4ص/614 رقم :9209)۔
و فی فيض الباري على صحيح البخاري: عَنْ أَبِى وَائِلٍ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُ النَّاسَ فِى كُلِّ خَمِيسٍ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ. قَالَ أَمَا إِنَّهُ يَمْنَعُنِى مِنْ ذَلِكَ أَنِّى أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، وَإِنِّى أَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ كَمَا كَانَ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - يَتَخَوَّلُنَا بِهَا، مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا.(الی قوله) يريد أن مثل هذه التعينات لا تُعَدُّ بِدعةً، و البدعة عندي ما لا تكون مستندةً إلى الشرع، و تكون ملتبسةً بالدين، و لذا يقال إن الرسوم التي جرت في المصائب بدعة دون التي في مواضع السرور ، كالأنكحة و غيرها فإن الأولى تُعَد كأنّها من الدين فتلتبس به بخلاف الثانية اھ(1/ 252)۔