میرے ایک بریلوی بھائی مجھے کہتے ہیں کہ تم بھی گیارہویں شریف کا ختم کرو ،یہ ثواب کا کام ہے، کیا مجھے ختم اور نیازدینا چاہیئے ؟اور کیامیں گیارہویں کے چاول ،حلوہ، نیاز کھا سکتا ہو ں؟کیایہ جائز ہے یا ناجائز ؟ تفصیل سے جواب دیں۔
گیارہویں شریف کا ختم نذر ونیاز وغیرہ جو کہ اس زمانہ میں رائج ہیں اور عوام نےفرض و واجب کی طرح سمجھ رکھا ہے محض بدعت و نا جائز ہے، کیونکہ اگرچہ مقصود اس نذر ونیاز سے ایصال ثواب ہے، جو کہ جائز اور درست ہے، لیکن اس کے لئےشریعت نےکسی دن ،وقت، مہینہ، وغیرہ کی تعیین نہیں فرمائی اور جس چیز کو شریعت نے عام اور مطلق چھوڑا ہو، اس کوعلی سبیل الالتزام کسی وقت میں متعین کرنا بدعت ہے، لہذا اگرسائل کا مقصودایصال ثواب ہےتو روپیہ نقد بالکل خفیہ طور پر غرباء و مساکین میں تقسیم کر کے ایصال ثواب کر دے، کیونکہ نقد دینے میں زیادہ ثواب ہے اور خفیہ دینےمیں بھی بنسبت علانیہ کے زیادہ ثواب ہے اور اگر کھانا بھی کھلانا ہو، تو بلا التزام تاریخ معین جب وسعت ہوکھلا د ے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1