نکاح

کیا پانچویں بہن کے ساتھ نکاح جائز ہے؟

فتوی نمبر :
10779
| تاریخ :
2020-10-26
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا پانچویں بہن کے ساتھ نکاح جائز ہے؟

السلام علیکم! میں نے نیٹ پر ایک فتویٰ دیکھا کہ پانچویں بہن کے ساتھ نکاح جائز ہے؟ تو کیا جس کا یہ عقیدہ ہو وہ مسلمان رِہ سکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بہن چاہے کسی بھی نمبر کی ہو اور کسی بھی جہت کی ہو اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے، جبکہ اس کو حلال سمجھنا جہالت پر مبنی اور نصِ قرآنی کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ دائرہ اسلام سے خروج کا سبب بن سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی في القرآن الکریم: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُم ۔ الآیۃ(النساء:۲۳)۔
وفي الخانية: ومن استحل حراما قد علم حرمته في دین النبي ۔ علیه الصلاۃ والسلام ۔ کنکاح ذوي المحارم، ٲو شرب خمر، ٲو ٲکل میتة، ٲو دم، ٲو لحم خنزیر، من غیر ضرورۃ فھو کافر وفعلة هذه الأشیاء فسق دون الاستحلال اھ (۵/۴۸۸)۔ واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شاہد فیاض احمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 10779کی تصدیق کریں
0     847
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات