السلام علیکم! میں نے نیٹ پر ایک فتویٰ دیکھا کہ پانچویں بہن کے ساتھ نکاح جائز ہے؟ تو کیا جس کا یہ عقیدہ ہو وہ مسلمان رِہ سکتا ہے؟
بہن چاہے کسی بھی نمبر کی ہو اور کسی بھی جہت کی ہو اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے، جبکہ اس کو حلال سمجھنا جہالت پر مبنی اور نصِ قرآنی کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ دائرہ اسلام سے خروج کا سبب بن سکتا ہے۔
قال اللہ تعالی في القرآن الکریم: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُم ۔ الآیۃ(النساء:۲۳)۔
وفي الخانية: ومن استحل حراما قد علم حرمته في دین النبي ۔ علیه الصلاۃ والسلام ۔ کنکاح ذوي المحارم، ٲو شرب خمر، ٲو ٲکل میتة، ٲو دم، ٲو لحم خنزیر، من غیر ضرورۃ فھو کافر وفعلة هذه الأشیاء فسق دون الاستحلال اھ (۵/۴۸۸)۔ واللہ اعلم بالصواب!