محترم مفتی صاحب! ہم اپنے علاقے کے بارے میں آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں کہ آیا یہاں جمعہ اور عید کی نماز درست ہے یا نہیں؟ اور اس کی تفصیل درج ِ ذیل ہے :ہمارے علاقے کی آبادی چار ہزار سے زائد ہے اور اس میں چار محلے مختلف ناموں سے موسوم ہیں، اور اس میں تین اسکولز ہیں، 20 کے قریب دکانیں ہیں جن میں تین چھوٹے میڈیکل سٹور ، پٹرول ایجنسی، درزی کی دکان ، حجام کی دکان وغیرہ شامل ہیں، اور ان میں سے کچھ دکانیں متصل بھی نہیں ہیں، یہاں دو مختلف محلوں میں جمعہ پڑھایا جاتا ہے اور کیاایسی جگہ پر دو مختلف محلوں میں جمعہ پڑھایا جا سکتا ہے؟ اور یہاں عید کی نماز کے لئےعید گاہ بھی موجود ہے؟ اور کیا نمازِ جمعہ اور عید کی شرائط میں کوئی فرق بھی ہے ؟
2۔نماز میں سورۃِ فاتحہ اور آمین کےبعد نئی سورت سے پہلے ﷽ پڑھنی چاہئے یا نہیں؟
1۔واضح ہوکہ اصل یہ ہےکہ گاؤں میں جمعہ اور عیدین صحیح نہیں ،جبکہ شہر اور قصبات میں صحیح ہے ،اور قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ جہاں آبادی چار ہزار کے قریب یااس سے زیادہ ہو ،اور وہاں ایسا بازار موجود ہو ،جس میں دوکانیں چالیس ،پچاس متصل ہوں ،اور بازار روزانہ لگتا ہو ،اور اس بازار میں ضروریاتِ روز مرہ کی تمام اشیاء ملتی ہوں ،مثلاً جوتےکی دوکان ،کپڑے کی ،عطرکی ،درزی کی ،غلہ کی ،دودھ گھی کی دکان،اور وہاں ڈاکٹر ،حکیم وغیرہ بھی ہوں ،اسی طرح وہاں ڈاکخانہ بھی ہو،اور پولیس کا تھانہ یا چوکی بھی ہو،اس کے ساتھ ساتھ اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں ،پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں ،وہاں جمعہ اور عیدین کی نماز درست ہوگی ورنہ نہیں،لہذا اس تفصیل کی روشنی میں مذکور مقام کے قریۂ کبیرہ اور قصبہ ہونے میں شبہ نہیں اس لئے اس مقام پر جمعہ و عیدین کی نمازوں کا قیام جائز اور درست ہے ۔
2۔عند الاحناف مذکور مقام پر بسم اللہ پڑھنا مسنون نہیں اور اگر کوئی پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں اور نہ ہی نماز کی صحت پر کوئی اثر پڑے گا۔
کما فی الدر و رد المحتار: (ويشترط لصحتها)الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) (الیٰ قولہ ) عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح اه(۲/۱۳۷)
وفی الھدایة:لاتصح الجمعة الا فی مصر جامع او فی مصلی المصر ولا تجوز فی القری(الی قولہ)بل تجوز فی جمیع افنیة المصر لانھا بمنزلتہ فی حوائج اھلہ۔اھ(1/82)
(لا) تسن (بين الفاتحة والسورة مطلقا) ولو سرية، ولا تكره اتفاقا،
وفی رد المحتار: (قوله ولا تكره اتفاقا) ولهذا صرح في الذخيرة والمجتبى بأنه إن سمى بين الفاتحة والسورة المقروءة سرا أو جهرا كان حسنا عند أبي حنيفة(1/490)