مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ سعودیہ میں جمعہ کے خطبہ کے دوران جب مولوی صاحب خطبے کے آخر میں دعائیں وغیرہ پڑھنا شروع کرتے ہیں تو اکثر لوگ ہاتھ اُٹھا لیتے ہیں، جیسے دعا میں اُٹھائے جاتے ہیں، اس کی کیا حقیقت ہے؟
جو شخص حنفی المسلک ہو اُسے خطبہ کے دوران دعا کے لیے ہاتھ اُٹھانا جائز نہیں، اس لیے حنفی المسلک سامعین کو اس سے احتراز لازم ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله: ولا كلام) (إلی قوله) وإذا شرع في الدعاء لا يجوز للقوم رفع اليدين ولا تأمين باللسان جهرا فإن فعلوا ذلك أثموا وقيل أساءوا ولا إثم عليهم والصحيح هو الأول وعليه الفتوى وكذلك إذا ذكر النبي - صلى الله عليه وسلم - لا يجوز أن يصلوا عليه بالجهر بل بالقلب وعليه الفتوى اھ (2/ 158)