السلام علیکم، مفتی صاحب! عید میلاد النبی ﷺ کے مسئلے کے بارے میں معلوم کرنا چاہتا ہوں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کوئی فتویٰ بھی دے دیجیے۔ والسلام!
مروّجہ میلاد منانے کا نہ اللہ جل جلالہ نے حکم دیا ہے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے اور نہ ہی صحابہ و تابعین اور تبع تابعین نے اس کے منانے کا اہتمام فرمایا ہے، اس طرح اس میلاد منانے کا کوئی ثبوت اسلام میں نہیں ہے، بلکہ یہ چھٹی صدی کے بعد کی ایجاد اور بدعت محض ہونے کے ساتھ ساتھ غیر مسلم اقوام کی تقلید بھی ہے، جس سے بہرصورت احتراز لازم ہے۔
کما فی المشکوٰۃ عن عائشةؓ قالت قال رسول اللہ ﷺ من احدث فی امرنا هٰذا ما لیس منه فهو ردّ۔ (ج۱، ص۲۷)
وفیها ایضًا: وعن حسان قال ما ابتدع قوم بدعتهم فی دینهم لا نزع اللہ من سنتهم مثلها ثم لا یعیدها الیهم الی القیامة۔ رواہ الدارمی۔ (ج۱، ص۳۱)
وفی فیض الباری: واعلم ان القیام عند ذکر میلاد النبی ﷺ لا اصل له فی الشرع واحدثه ملك الاربل کما فی تاریخ ابن خلکان انه کان یعقدله مجالس ویصرف علیها اموالا۔ اھـ
وعلٰی هامش هٰذہ العبارة یقول المحشی: ولا ینبغی ان یسّٰك ان المیلاد المروج بین اظهرنا جرام قطعًا فانه یشمل علی المحرمات الکثیرۃ والمعاصی الظاهرۃ والباطنة وقراءۃ الروایات الموضوعة (الی قوله) فتلك المجالس کلها مجالس البدع فاحذروها۔ الخ (ج۲، ص۳۱۹) واللہ اعلم بالصواب!
جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا نا جائز ہے تو صد سالہ جشنِ دیوبند منانا کیوں جائز ہے
یونیکوڈ عرس و میلاد 0