حج کے دوران منی کی راتوں میں کچھ خواتین محفل میلاد منعقد کرواتی تھیں ، جس میں حمدوثنا کے بعد نعتیں پڑھتی تھیں ، آس پاس کے خیموں سے خواتین کو اس میلاد میں آنے کی دعوت بھی دیتیں تھیں ،اور درمیان درمیان میں وعظ بھی ہوتا تھا ، واضح رہے کہ اس محفل میں نا کوئی شرعی مسائل بیان ہوتے تھے اور نا ہی یہ پروگرام کرنے والی خواتین عالمہ تھیں ،ان کے نزدیک اس طرح کرنے سے ثواب ملتا ہے ، سوال میرا یہ ہے کہ کیا انکا یہ طرز عمل جائز اور درست ہے ؟
شرعی حدود میں رہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دورد پڑھنا اور آپ کی مدح بیان کرنا بلاشبہ باعث اجروثواب عمل ہے، لیکن شریعت مطہرہ میں اس عمل کے لیے باقاعدہ اجتماع کا انعقاد کرنا اور لوگوں کو بلانا، خاص طورپر خواتین کا اس قدر بلند آواز سے نعتیہ کلام پڑھنا جس سے ان کا آواز مردوں کے مجمع میں سنا جائے خلاف شریعت اور بدعت پر مشتمل ایک ناجائز عمل ہے، جس پر ثواب کی امیدرکھنے کے بجائے حکم شرعی کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ایسے لوگ عذاب کے مستحق بنتے ہیں، اس لیے خواہ منی کی راتیں ہو،یا دیگر عام اوقات ہوں، اس میں خواتین کے لیے محفل میلاد منعقدکرنا اوراس کے لیے باقاعدہ خواتین کو جمع کرنا بدعت ہونے کی وجہ سے شرعاجائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی المدخل لعلامہ ابن الحاج:
’’فصل في المولد: ومن جملۃ ما أحد ثوہ من البدع مع اعتقادہم أن ذٰلک من أکبر العبادات وإظہار الشعائر ما یفعلونہٗ فی شہر ربیع الأول من المولد وقد احتوٰی ذٰلک علی بدع ومحرمات جملۃ ، فمن ذٰلک استعمالہم المغاني ۔‘‘ (المدخل، ج:۲،ص:۳)
جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا نا جائز ہے تو صد سالہ جشنِ دیوبند منانا کیوں جائز ہے
یونیکوڈ عرس و میلاد 0