السلام علیکم! حضرت مفتی صاحب! آجکل جشن میلاد کے نام پر جو بازار بن گیا کوچے ،چوک اور چھورائے سجائے جاتے ہیں، کیا یہ کوئی ثواب ہے ؟ نہ کر نے والا گناہ گار ہو گایا مومن ؟ بعض مقامات پر بینرز لگائے جاتے ہیں "سوائے ابلیس کے سب مناتے ہیں آقا کا میلاد "کیا یہ کوئی روایت ہے ؟ اگر نہیں تو یہ بتائیں کہ رسم کہاں سے آئی ہے اور اسکا آغاز کب اور کس نے اور کیوں کیا ؟ پلیزقرآن وحدیث کی روشنی میں اورصحابہ ،تابعین ،تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین وبزرگان دین کی تعلیمات سے جواب سے نوازے۔
حضوراقدس ﷺ بعثت کےبعد (23) سال تک بقید حیات رہے، اس کے بعد (30) سال خلافت راشدہ کے گزرے اور اس کے بعد ایک سودس(110) ہجری تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دور اور تقریبا سن220 ھ کے لگ بھگ تابعین اور تبع تابعین کا دور یا جو خیر القرون کا دور کہلاتا ہے،وہ دور رہا، لیکن اس دور میں حضور ﷺ کے کا مل عشق اور محبت کا دور ہونے کے باوجود دُور دُور تک بھی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی اور نہ ہی کوئی ثابت کر کے دکھا سکتا ہے کہ اس دور میں 12ربیع الاول کو اس طرح جشن یا عید کے طور پر منایا گیا تھا ،بلکہ یہ بدعت سن 604 ہجری میں ایک بادشاہ مظفر الدین کو کری ابن اربل کے حکم سے ایجاد ہو ئی۔ چنانچہ امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب نے اپنی کتاب "راہ سنت" میں امام أحمدبن محمدمصری مالکی کے حوالہ سے لکھا ہے: ’’کان ملکا مسرفا یامر علماء زمانہ ان یعملو باستنباطھم و اجتہادھم وان لایتبعوا لمذھب غیر ھم حتی مالت الیہ جماعۃ العلماء و طائفۃ من الفضلاءویحتفل لمولد النبی ﷺ فی الربیع الاول و ھو اول من احدث من الملوک ھذالعمل‘‘۔ (القول المعتمد فی عمل المولد)162۔
پھر ایسا غیرثابت شدہ عمل تو در کنار،کسی مستحب کیساتھ ایساطرز عمل اختیار کیا جائےکہ اس کے انجام نہ دینے والوں کو کافر تک کہنے سے دریغ نہ کیاجائے تو وہ واجب التر ک ہو جاتا ہے چہ جائیکہ ایسا عمل جو فی نفسہ ثابت بھی نہ ہو اور وہ بہت سارے خرافات کا مجمو عہ بن کر رہ گیا ہو اور اسے دین کا نام دیکر انجام دیا جارہاہو ۔فالی اللہ المشتکی ۔ واللہ اعلم باالصواب!
جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا نا جائز ہے تو صد سالہ جشنِ دیوبند منانا کیوں جائز ہے
یونیکوڈ عرس و میلاد 0