(۱) اہلِ تشیع کی مجلس کا کھانا شربت اور کونڈے وغیرہ لینےیا کھانے کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟ نیز میلاد، نیاز، چہلم، سوئم اور کسی بھی معزز ہستی کی برسی پر جوعرس کیا جاتا ہے اس کے کھانے اور مٹھائیوں کے بارے میں بتائیں۔ (۲) اگر کوئی شخص جان بوجھ کران کے کھانے کھاتا ہے، وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ غلط ہے تو اس کا کفارہ کیا ہے اور اس کی سزا کیاہے؟ (۳) اہلِ تشیع یا قادیانی اپنے گھروں پر جو کھانا بغیر کسی مذہبی نقطۂ نگاہ کے روزمرہ کیليے بناتے ہیں کیا ہم کھاسکتے ہیں؟ (۴) اہلِ تشیع اور قادیانیوں سے کس قسم کے تعلقات رکھے جاسکتے ہیں؟
اس قسم کے کھانے اگر غیر اللہ کی نذر نہ ہوں تو ان کا کھانا اگرچہ حرام نہیں، مگر رسم کے کھانے ہونے کی وجہ سے ان سے احتراز لازم ہے اور کھالینے کی صورت میں اس کی کوئی سزا یا کفارہ بھی نہیں، جبکہ قادیانی کے گھر پر بنے ہوئے کھانے میں اگر حرام کی آمیزش نہ بھی ہو تب بھی اظہارِ نفرت کیلیے اس کا کھانا کھانا اور اس کے ساتھ تعلقات رکھنا درست نہیں اور اہلِ تشیع سے بھی بلاوجہ تعلق نہ رکھا جائے۔
في مشکاۃ المصابیح: وعن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين» اھ (متفق عليه) (۱/۱۲)۔
وفي الدر المختار للعلامة الحصکفي: واعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام ٲھـ
وفي حاشية ابن عابدین: (قوله باطل وحرام) لوجوه: منها أنه نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق اھ (۲/۴۳۹) ــــــــــــــــــــــــــ واللہ أعلم بالصواب!
جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا نا جائز ہے تو صد سالہ جشنِ دیوبند منانا کیوں جائز ہے
یونیکوڈ عرس و میلاد 0