سوال یہ ہے کہ بارہ ربیع الاول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن ہے یا وصال کا ؟اور اسلام میں میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا جائز ہے یا بدعت ہے؟قرآن و حدیث کے مطابق جواب دیجیے۔شکریہ
واضح ہو کہ آپﷺ کی وفات بالاتفاق (بارہ) ربیع الاوّل کو ہوئی ہے، جبکہ آپﷺ کے پیدائش میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتاہے تاہم صحیح اور راجح قول یہ ہے کہ آپﷺ کی پیدائش نو ربیع الاوّل کو ہوئی ہے پھر بارہ ربیع الاوّل کو بطورِ عید منانا بھی درست نہیں کیونکہ مسلمانوں کی دو عیدیں متعین ہیں یعنی عید الفطر اور عید الاضحیٰ اس کے علاوہ عیدیں منانا آپﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں , اس لئے اس کا ترک واجب ہے۔
کما فی المقتضی من سیرة المصطفٰی: وتوفی لا ثنتی عشرة من ربیع الأول عن ثلاث وستین علی الصحیح وغسله العبّاس وعلی ومن معهما وهم الذین وسدوه فی الضریح وکفن فی ثلاثة أثواب سحولیة لیس فیها قیمص ولا عمامة وصلی المسلمون علیه أفذاذا لا یقدم أحد منهم علی الإمامة ودفن فی بیت عائشة وفیه کانت وفاتهﷺ اھ (ص: ۲۴۱، ۲۴۲)-
وفی غایة الرسول فی سیرة الرسول: وماتﷺ فی الضحوة الکبری من یوم الإثنین لا ثنتی عشرة لیلة خلت من ربیع الاول وقد بلغ من السن فیما هو الأثبت ثلاثا وستین سنة اھ (ص: ۶۴)-
وفی الدر المختار: بدعة وهی اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة بل بنوع شبهة اھ وفی رد المحتار ولا یخفی ان الاعتقاد یشمل ما کان معه عمل اول فان من تدین بعمل لا بد ان یعتقده کمسح الشیعة علی الرجلین وانکارهم المسح علی الخفین ونحو ذلك فیساوی تعریف الشمنی لها بانها ما احدث علی خلاف الحق الملتقی عن رسول اللہ ﷺ من علم وعمل او حال بنوع شبهة واستحسان وجعل دینا قویما وصراطا مستقیمًا اھ (۱/ ۵۴۰) -
جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا نا جائز ہے تو صد سالہ جشنِ دیوبند منانا کیوں جائز ہے
یونیکوڈ عرس و میلاد 0