میرا سوال یہ ہے کہ یہ جو تیسری عید ہے ’’عید میلاد النبی‘‘ اس کی اسلام میں کیا حقیقت ہے؟ کیا یہ تیسری عید منانا بدعت نہیں؟ کیا ہمارے نبی ﷺ یا اللہ پاک نے اس کا حکم دیا ہے؟ اور صحابہؓ نے ایسا کرنے کو کہا ہے؟
اس ’’عید‘‘ کے منانے کا نہ اللہ جل شانہٗ نے حکم دیا ہے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے اور نہ ہی صحابہ و تابعین اور تابعین نے اس کے منانے کا اہتمام فرمایا، بلکہ یہ چھٹی صدی کے بعد کی ایجاد اور بدعتِ محض ہونے کے ساتھ ساتھ غیر مسلم اقوام کی تقلید ہے، جس سے بہر صورت احتراز ہی چاہیے۔
ففی المشکوٰۃ عن عائشةؓ قالت قال رسول اللہ ﷺ من احدث فی امرنا هٰذا ما لیس منه فهو ردّ۔ (ج۱، ص۲۷)
وفی مدخل: وجملة ما احدثوہ من البدع ما اعتقادهم ان ذالك من اکبر العبادات واظهار الشرائع ما یفعلونه فی شهر ربیع الاوّل من المولد وقد احتوی علی بدعٍ ومحرّمات۔ الخ (ج۱، ص۲۶۱، بحواله جواهر الفقه: ج۱، ص۲۰۷)
وفی فیض الباری: واعلم ان القیام عند ذکر میلاد النبی ﷺ لا اصل له فی الشرع واحدثه ملك الاءبل کما فی تاریخ ابن خلکان انه کان یعقد له مجالس ویصرف علیها اموالًا وعلی هامش یقول العلامة محمد بدر عالم المیرتھی: ولا ینبغی ان یشك ان المیلاد المروج بین اظهرنا حرام قطعًا فانه یشتمل علی المحرمات الکثیرۃ والمعاصی الظاهرة والباطنة من اضاعة المال (الی قوله) فتلك المجالس کلها مجالس البدع فاحذروها۔ الخ (بحواله نجم الفتاویٰ: ج۱، ص۱۷۲) واللہ اعلم بالصواب!
جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا نا جائز ہے تو صد سالہ جشنِ دیوبند منانا کیوں جائز ہے
یونیکوڈ عرس و میلاد 0