معززمفتیان کرام السلام علیکم !
میں یہاں چند سوالات لکھ رہاہوں ،مجھے اس کے جوابات کی ضرورت ہے مجھے امید ہے کہ جلد اس کے جوابات حاصل کر لونگا ۔شکریہ
1۔کیا عرس منانا جائز ہے ؟ حضورﷺ اور صحابہ میں سے کس نے عرس منایا ؟
2۔کیا عید میلاد النبی منانا جائزہے ؟حضورﷺ اور صحابہ میں سے کس نے منایا ؟
3۔ کیا کونڈ ے کروانا ثواب کا کا م ہے ؟(4)مرنے کے بعد 'قل شریف ' یا چالیسواں سنت سے ثابت کرے ؟
5۔کیا حضورﷺ کی تاریخ پید ائش اور تاریخ وفات ایک ہے؟
(ا تا4) ۔ سوال میں مذکور تمام اُمور بدعات ورسومات پر مشتمل ہیں ۔ قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر میں اِن کا کوئی ثبوت نہیں، اس لیے ان سے احتراز لازم ہے ۔
(5)۔ مشہور قول کے مطابق آپ ﷺ کی تاریخ پیدائش ووفات ایک ہی بتائی جاتی ہے مگر صحیح اور مستند قول کے مطابق تاریخِ وفات 12ربیع الاول اور تاریخ پیدائش 8ربیع الاول ہے۔
ففی المشکوۃ : عن عائشة رضی اللہ عنھا،قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه فھو رد الحدیث (ص:27)
وفی البداية والنهاية: وقال محمد بن إسحاق: توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم لاثنتي عشرة ليلة خلت من شهر ربيع الأول، في اليوم الذي قدم فيه المدينة مهاجرا، (5/ 276)
وفی البداية والنهاية: عن جابر وابن عباس أنهما قالا: ولد رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفيل يوم الاثنين الثامن عشر من شهر ربيع الأول وفيه بعث وفيه عرج به إلى السماء وفيه هاجر وفيه مات.وهذا هو المشهور عند الجمهور (إلی قوله) وقيل لثمان بقين منه نقله ابن دحية من خط الوزير أبي رافع بن الحافظ أبي محمد بن حزم عن أبيه والصحيح عن ابن حزم الأول أنه لثمان مضين منه كما نقله عنه الحميدي وهو أثبت. (2/ 320)واللہ أعلم بالصواب
جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا نا جائز ہے تو صد سالہ جشنِ دیوبند منانا کیوں جائز ہے
یونیکوڈ عرس و میلاد 0