عرس و میلاد

میلاد منانے کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
85567
| تاریخ :
2025-08-25
حظر و اباحت / بدعات و منکرات / عرس و میلاد

میلاد منانے کا شرعی حکم

مسلمانوں میں طویل عرصہ سے میلاد رسول کے اہتمام کے حوالے سے شدید جھگڑے ہیں۔ مجھے اس کی مندرجہ پہلؤوں پر شرعی رہنمائی درکار ہے۔
میلاد رسول ﷺ شرک ہے یا بدعت ؟
بالعموم یہ سنا ہے کچھ لوگ میلاد کو بدعت تو کچھ شرک تک کہتے ہیں۔ اس بات کی وضاحت فرما دیں کہ اللہ تعالی کے پیارے رسول ﷺ کی ولادت شرک یا بدعت کیسے ہے اور یہ گمراہی کیوں کر ہے؟
یا
اللہ کے محبوب نبی ﷺ کی ولادت کا ذکر خیر کیوں کر شرک یا بدعت ہے؟
کیا صرف میلاد رسول ﷺ ہی دینی لحاظ ے شرک و بدعت کے زمرے میں اتا ہے یا کسی بھی شخص کا میلاد منانا شرک و بدعت ہے؟
کیا اللہ کے رسول ﷺ کسی مخصوص دن پیدا ہوئے یا بغیر کسی دن کے ہی اللہ کے رسول ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی ؟ اگر کسی خاص دن یا مہینے میں ہی اللہ کے رسول ﷺ کی ولادت ہوئی تو اس دن یا مہینے کا ذکر یا خصوصیت کا ذکر کرنا شرک و بدعت یا خلاف شریعت و گمراہی ہوتا ہے؟
کیا میلاد مصطفی ﷺ کےلئے کسی مجلس یا پروگرام کو مخصوص نام دیا جائے تبھی یہ جائز ہے ؟ یا مخصوص علاقے میں مروج علاقائی زبان اور رواج کے مطابق محفل / مجلس / پروگرام / کانفرنس وغیرہ یا جشن و عید وغیرہ کا نام دینا حرام ہے ؟
میلاد مصطفی کے اہتمام میں اصل اختلاف کس معاملے میں ہے؟ یوم میلاد کی تاریخ پر؟محفل و مجلس میلاد پر ؟ مولود پر؟ مجلس میلاد کے اہتمام کرنے والوں پر؟
کچھ لوگوں کے بقول چونکہ
میلاد کے پروگراموں میں کچھ جگہ یا کچھ لوگوں کی طرف سے کچھ ناجائز ، حرام یا خلاف شرع اعمال کئے جاتے ہیں اس لئے میلاد ہی سرے سے حرام ہے۔
کیا خرافات کی وجہ سے اصل عمل حرام ہوجاتا ہے؟
کیا کسی جگہ ، کسی اجتماع میں خلاف شرع امور کی وجہ سے اس عمل کو ہی سرے غلط کہا جاسکتا ہے؟ جیسے
نکاح شادی کی تقریبات میں اختلاط مردو زن ، بے پردگی وغیرہ ، تو کیا اس عمل کی وجہ سے نکاح کا عمل بھی حرام ہوجاتا ہے؟
کچھ لوگوں کے مطابق کچھ لوگ مخصوص اعمال مخصوص کرتے ہیں ۔ بالعموم مشاہدہ یہ ہے ہر جگہ ہر مجلس کے منتظم اپنی محافل میں مختلف انداز اور طریقے سے محافل کا اہتمام کرتے ہیں۔ کیا کسی خاص کتاب میں کچھ ایسے مخصوص عوامل درج ہیں جو خلاف شرع ہوں اور انہوں نے ان کو بطور شریعت کے متعارف کرایا ہو؟
اگر ایسا ہے تو مسلمانوں کو ضرور آگاہ فرمائیں۔
اسی معاملے میں ایک اور جھگڑا جو بالعموم دیکھنے میں آتا ہے کہ
مختلف الخیال لوگ انہی ایام میں ایک ہی طرح کے اہتمام سے مختلف ناموں سے تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں۔ مگر
وہ دوسروں کی تقریبات کو حرام ، بدعت ، شرک وغیرہ جیسے القات و اصطلاحات سے تعبیر کرتے ہوئے کھلی گمراہی ، دین دشمنی اور اسلام سے بغاوت قرار دیتے ہیں۔

آیا یہ سب کچھ ایک عام مسلمان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ
ان میں سے درست کیا ہے اور غلط کیا ہے؟
دین کی صحیح شکل کیا ہے اور غلط کیا ہے؟
اس بارے میں تفصیلی رہنمائی فرماتے ہوئے اجر عظیم حاصل کریں۔
بہت شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت پوری انسانیت پر اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا﴾ (یونس: 58)
ترجمہ: "آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوشی منائیں۔"
علماء نے اس آیت کی تفسیر میں رسول اللہ ﷺ کو اللہ کی سب سے بڑی رحمت قرار دیا ہے۔
لہذا،رسول اللہ ﷺ کی ولادت کا ذکرِ خیر، آپ پر درود و سلام، سیرت و شمائل کا بیان اور آپ کی نعمت پر خوشی کا اظہارکرناشرک وبدعت نہیں ،بلکہ بذاتِ خود جائز اور مستحسن ہے۔ اصل اختلاف آپ ﷺ کی ولادت کے ذکر پرنہیں بلکہ میلاد کے انعقاد کے "طریقہ" پر ہے، اگر کسی مجلس میں خلافِ شرع امور (مثلاً موسیقی، مخلوط اجتماع، بے پردگی، اسراف، مبالغہ آرائی یا ایسی باتیں جو شریعت میں ثابت نہ ہوں) شامل ہوں تو یہ افعال ناجائز ہیں۔جبکہ فی زمانہ محافلِ میلاد کے نام پر جو مجالس عام طور پر منعقد کی جاتی ہیں، ان میں اکثر و بیشتر مذکورہ خلافِ شرع امور ہوتے ہیں، حالانکہ شریعت نے ان امور سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ اس بناء پر موجودہ رائج محافلِ میلاد کو بدعت و ناجائز قرار دیا جاتا ہے اور مسلمانوں کو ان میں شرکت سے اجتناب کی تلقین کی جاتی ہے۔ البتہ اگر کوئی مجلس ایسی ہو جس میں صرف قرآن کریم کی تلاوت، درود و سلام، سیرتِ مصطفی ﷺ اور تعلیماتِ نبویہ کا ذکر ہو، اوروہ ہر قسم کے خلافِ شرع امور سے پاک ہو، تو ایسی مجلس بذاتِ خود جائز ہے۔آپ ﷺ کے ذکرِخیرپر مشتمل کسی محفل یا پروگرام کو "محفلِ میلاد"، "مجلسِ ذکر"، "سیرت کانفرنس" وغیرہ میں کسی بھی نام سے منسوب کرنادرست ہے، مگر اسے مستقل "عید" قرار دینا یا اس کو شریعت کی لازم عبادت سمجھنا درست نہیں،جس سے احترازلازم ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85567کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • عرس اور میلاد منانے اور کونڈوں اور مرنے کے بعد قل شریف پڑھنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   عرس و میلاد 0
  • میلاد، نیاز، چہلم،کونڈے اور قادیانی کے گھر کے کھانے کا حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • بارہ ربیع الاول کے دن چندہ کر کے ثواب کی نیت سے کچھ پکا کر صدقہ کرنا

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 2
  • عید میلادالنبی کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • منی کی راتوں میں عورتوں کا میلاد پڑھنا

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • عید میلاد النبی کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 1
  • عید میلاد النبی کی اسلام میں کیا حقیقت ہے؟

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • عید میلاد النبی منانے کا حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا نا جائز ہے تو صد سالہ جشنِ دیوبند منانا کیوں جائز ہے

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • بارہ ربیع الأول کو حلوہ پکانا اور غریبوں میں تقسیم کرنا

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • عرس منانے کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   عرس و میلاد 0
  • نبی کریمﷺ کی سیرت بیان کرنے کے لئےجلسہ منعقد کر نے کا حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • عید میلاد النبی منا نے کا حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • چہلم کا حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • محفلِ میلاد کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • کیاعرس منانا اور اس میں شرکت کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • میلاد کاکھانا کھانا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • میلاد منانا اور تاریخ وفات کی تحقیق

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • میلاد منانا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • برتھ ڈے کیک بناکر فروخت کرنا

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • عید میلاد النبیﷺ کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   عرس و میلاد 1
  • میلاد منانے کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
Related Topics متعلقه موضوعات