کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام کہ عید میلاد پر گائے کی قربانی کا گوشت کھانا جائز ہے ؟ اور دوسرے کھانے جو لوگ پکاکر محلے میں بھیجتے ہیں ان کا کھانا درست ہے یا ناجائز ؟ وضاحت فرمائیں - جزاک اللہ
بارہ ربیع الاول کو عید میلاد کہنا شرعی اعتبار سے درست نہیں کیونکہ مسلمانوں کو فقط دو عیدیں ملی ہیں عید الفطر اور عید الاضحیٰ، بارہ ربیع الاول (عید میلاد) کو مستقل طور پر قربانی کرنا اور اُسے دین کا کام سمجھ کر اس پر ثواب کی امید رکھنا بھی جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کسی کےہاں بقرہ عید پر ہونےو الی قربانی کا گوشت رکھا ہوا ہو تو جس طرح دوسرے ایام میں اس کو کھایا جاسکتاہے اسی طرح بارہ ربیع الا (عید میلا) کو بھی اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں اسی طرح عام دنوں کی طرح اگر کسی نے اس دن کھانا بناکر بھیج دیا تو وہ حرام نہیں اس کو کھایا جاسکتاہے۔
فی مشکاة المصابیح: عن عائشة رضی اللہ عنها قالت: قال رسول اللہﷺ: ’’من احدث فی امرنا هذا ما لیس منه فهو رد‘‘ اھ (ص: ۲۷)-
وفی رد المحتار: اذا تردد الحکم بین سنة وبدعة کان ترك السنة راجحا علی فعل البدعة. اھ (۱/ ۶۴۲)-
جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا نا جائز ہے تو صد سالہ جشنِ دیوبند منانا کیوں جائز ہے
یونیکوڈ عرس و میلاد 0