السلام علیکم! امید ہے انشاء اللہ سب خیریت سے ہوں گے، گزارش ہے کہ تقریباً پورے پاکستان میں اولیاء کرام اور بزرگان دین کے مزارات (قبر) پر عروس کئے جاتے ہیں، اس کے انعقاد کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ اور اس میں شرکت کرنے کا حکم کیا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ؟ شکر یہ، بندہ گنہگار
بزرگان دین کے ایام وفات پر ان کے مریدین اور عقیدت مند مجالس کا انعقاد کرتے ہیں ، اس کو عرس سے تعبیر کرتے ہیں، مگر اس قسم کے ایام منانے کا قرون ثلاثہ مشہود لها بالخیر (یعنی دور صحابہ و تابعین اور تبع تابعین ) سے کوئی ثبوت نہیں، اس لیے اس کو ثابت اور باعث ثواب سمجھ کر منانے اور اس میں شرکت کرنے سے احتراز لازم ہے۔
كما في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه، فهو رد» (184/3)
جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا نا جائز ہے تو صد سالہ جشنِ دیوبند منانا کیوں جائز ہے
یونیکوڈ عرس و میلاد 0