عرس و میلاد

محفلِ میلاد کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
38963
| تاریخ :
حظر و اباحت / بدعات و منکرات / عرس و میلاد

محفلِ میلاد کی شرعی حیثیت

کیا محفلِ میلاد میں شرکت کرنی چاہیئے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حضور اکرم ﷺ کی سیرت و حالات پر مسلمانوں کو مطلع کرنا اسلام کا اہم ترین فرض ہے ۔ اور ساری تعلیماتِ اسلامیہ کا خلاصہ ہے، اگر کوئی مسلمان حضور کی ولادت ، معجزات ، غزوات وغیرہ کا ذکر بطرزِ وعظ و درس بغیر پابندئیِ رسوم کے کرے تو بے شمار برکتوں کا باعث ہو گا، مگر اس کو کسی خاص مہینہ ، دن ، تاریخ اور مخصوص طریقہ کے ساتھ مقید کرنا اور اس قسم کی مجالس میں آپ کی آمد کا اعتقاد اور اسی نظریہ سے قیام کرنا اور اسی طرز کو ذکر مبارک کے لئے لازم سمجھنا اور جو ایسا نہ کرے اس کو بنظرِ حقارت دیکھنا اور اس کو مختلف القاب سے نوازنا ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے ایک جائز بلکہ مستحب امر بھی بدعت بن جاتا ہے۔ چہ جائیکہ ایسا امر جس کا قرون مشہود لها بالخیر (صحابہ تابعین تبع تابعین ) سے کوئی ثبوت نہ ہو،نیز یہ طریقہ حضور کے وسیع اور عمومی ذکر کو محدود کرنے کے بھی مترادف ہے، اس لئے ایسی میلاد کی مجالس منعقد کرنا اور اس میں شریک ہو نا درست نہیں بلکہ بدعت ہے ، جس سے احتر از لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن أبي داود : فقال العرباض: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم، ثم أقبل علينا فوعظنا موعظة بليغة ذرفت منها العيون ووجلت منها القلوب، فقال قائل: يا رسول الله كأن هذه موعظة مودع، فماذا تعهد إلينا؟ فقال «أوصيكم بتقوى الله والسمع والطاعة، وإن عبدا حبشيا، فإنه من يعش منكم بعدي فسيرى اختلافا كثيرا، فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء المهديين الراشدين، تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ، وإياكم ومحدثات الأمور، فإن كل محدثة بدعة، وكل بدعة ضلالة»(4/ 201)۔
و فی صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه، فهو رد»(3/ 184) ۔
و فی فتح الباري لابن حجر : فَإِنَّ مَعْنَاهُ مَنِ اخْتَرَعَ فِي الدِّينِ مَا لَا يَشْهَدُ لَهُ أَصْلٌ مِنْ أُصُولِهِ فَلَا يُلْتَفَتُ إِلَيْهِ(5/ 302)۔
و فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين رد المحتار : وحينئذ فيساوي تعريف الشمني لها بأنها ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان، وجعل دينا قويما وصراطا مستقيما اهـ فافهم(1/ 560) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 38963کی تصدیق کریں
0     1126
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • عرس اور میلاد منانے اور کونڈوں اور مرنے کے بعد قل شریف پڑھنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   عرس و میلاد 0
  • میلاد، نیاز، چہلم،کونڈے اور قادیانی کے گھر کے کھانے کا حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • بارہ ربیع الاول کے دن چندہ کر کے ثواب کی نیت سے کچھ پکا کر صدقہ کرنا

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 2
  • عید میلادالنبی کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • منی کی راتوں میں عورتوں کا میلاد پڑھنا

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • عید میلاد النبی کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 1
  • عید میلاد النبی کی اسلام میں کیا حقیقت ہے؟

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • عید میلاد النبی منانے کا حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا نا جائز ہے تو صد سالہ جشنِ دیوبند منانا کیوں جائز ہے

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • بارہ ربیع الأول کو حلوہ پکانا اور غریبوں میں تقسیم کرنا

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • عرس منانے کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   عرس و میلاد 0
  • نبی کریمﷺ کی سیرت بیان کرنے کے لئےجلسہ منعقد کر نے کا حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • عید میلاد النبی منا نے کا حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • چہلم کا حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • محفلِ میلاد کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • کیاعرس منانا اور اس میں شرکت کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • میلاد کاکھانا کھانا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • میلاد منانا اور تاریخ وفات کی تحقیق

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • میلاد منانا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • برتھ ڈے کیک بناکر فروخت کرنا

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
  • عید میلاد النبیﷺ کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   عرس و میلاد 1
  • میلاد منانے کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   عرس و میلاد 0
Related Topics متعلقه موضوعات