کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا ایک دوست تبلیغی جماعت میں دو دفعہ گیا ہے ، اس کا کہنا ہے کہ بریلوی مشرک ہیں ، کیونکہ وہ جشنِ عید میلاد النبی مناتے ہیں جو کہ صحابہ سے ثابت نہیں ہے ، جب میں نے اس سے پوچھا کہ صد سالہ جشنِ دیوبند کیا ہے ؟ تقریبِ رونمائی ، مجلہ سجائی، تقریبِ خدمتِ علماء دیوبند ، چلّے وغیرہ کیا ہیں ؟ جس میں تین دن، دس دن ، چالیس دن لگائے جاتے ہیں؟ کیا یہ تمام امور صحابہ سے ثابت ہیں؟ اس نے کہا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں درست ہے ، مجھے نہیں سمجھ میں آتا کہ یہ کس طرح کا جواب ہے ، ہمیں مسلمان ہونے کے ناطے سے دونوں کو یکساں طریقے سے دیکھنا چاہئے ، بریلویوں کا کہنا ہے کہ ان کے علماء نے بہت سی کتابیں ، قرآن و حدیث کی روشنی میں لکھی ہیں اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے، جب ہم بہت سی ایسی چیزیں کررہے ہیں جو صحابہ سے ثابت نہیں تو پھر دوسرے کو ایسا کرنے پر کیوں برا سمجھتے ہیں ، یہ کیوں حرام اور شرک ہے؟ کیا آپ لوگ حرام و شرک نہیں کررہے ہیں؟
حضورِ نبی اکرم ﷺ کی سیرت و حالات پر مسلمانوں کو مطلع کرنا ، اسلام کا اہم ترین فرض ہے اور ساری تعلیماتِ اسلامیہ کا خلاصہ ہے پس اگر کوئی مسلمان حضورِ اکرم ﷺ کی ولادت یا معجزات یا غزوات وغیرہ کا ذکر بطرزِ وعظ و درس ، بغیر پابندیٔ رسوم کے کرے ، تو ہزاروں برکتوں کا باعث ہوگا ، مگر اس کو کسی مہینہ، دن تاریخ اور مخصوص طریقہ کے ساتھ مستلاً مقید کرنا ، اور اس قسم کی مجالس میں آپ ﷺ کی آمد کا اعتقاد اور اسی نظریہ سے قیام کرنا اور اسی طرز کو ذکرِ مبارک کیلئے لازم سمجھنا اور جو ایسا نہ کرے اس کو بنظرِ حقارت دیکھنا اور اس کو مختلف القاب سے نوازنا ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے ایک جائز بلکہ مستحب امر بھی بدعت بن جاتا ہے چہ جائیکہ ایسا امر جس کا قرونِ ثلاثہ "مشہود لہا بالخیر" یعنی دورِ صحابہؓ و تابعین اور تبعِ تابعینؒ سے کوئی ثبوت بھی نہ ہو ، نیز یہ طریقہ حضور علیہ السلام کے وسیع اور عمومی ذکر کو محدود کرنے کے بھی مترادف ہے جبکہ صد سالہ جشن اور دیگر اصلاحی تقریبات جیسے ختمِ بخاری وغیرہ کو لازم اور دین کا حصہ سمجھ کر ہرگز نہیں اپنایا جاتا ، کہ ان پر بھی بدعت یا ناجائز ہونے کا اطلاق ہو ، بلکہ قرآن کریم کی آیت (و اما بنعمۃ ربک فحدث) کے تحت اظہارِ تشکر کے طور پر ، ان کا قیام ہوتا ہے جو ایک محدود عمل ہے جبکہ تبلیغی جماعت کے ساتھ چلے ، تین چلے اور عشرہ وغیرہ کیلئے خروج ، امر بالمعروف اور نہی المنکر یا طاعات کو اپنانے اور منکرات کو ترک کرنے کی دعوت ، اور خود سیکھنے اور دوسروں کو اس کی طرف متوجہ کرنے کیلئے ہے جو شرعاً بھی ایک مسلمان بندہ سے مطلوب ہے اور اس سلسلہ میں کم و بیش اوقات کیلئے نکلنا محض ایک انتظامی امر ہی نہیں بلکہ مؤید من الحدیث و الآ ثار بھی ہے اور احساسِ ذمہ داری لے کر اس میں شرکت اپنی ذمہ داری سے سبکدوشی اور باعثِ اجر و ثواب بھی ہے۔
قال اﷲ تعالٰی: الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا۔(سورۃ المائدۃ: پارہ۶)۔
عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا قالت قال رسول اﷲ ﷺ من احدث فی امرنا ہذا ما لیس منہ فہو رد متفق علیہ و عن جابرؓ قال ، قال رسول اﷲ ﷺ اما بعد فان خیر الحدیث کتاب اﷲ و خیر الہدی ہدی محمد و شر الامور محدثاتہا و کل بدعۃ ضلالۃ۔(مشکوٰۃ: ج۱، ص۲۷)۔
عن ابی ہریرۃؓ قال ، قال رسول اﷲ ﷺ : انکم فی زمان من ترک منکم عشر ما أمر بہ ہلک ثم یأتی زمان من عمل منہم بعشر ما أمر بہ نجا۔(مشکوٰۃ: ج۱، ص۳۱)۔
جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا نا جائز ہے تو صد سالہ جشنِ دیوبند منانا کیوں جائز ہے
یونیکوڈ عرس و میلاد 0