السلام علیکم! مجھے درج ذیل سوالات کے بارے میں معلوم کرنا ہے:
۱۔ کیا نامحرم لڑکی اور لڑکے کاایک دوسرے سے بات کرنے یا دیکھنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟ ویسے تو اسلام میں ان سے بات کرنا یاد یکھنا منع ہے؟
۲۔ جمعہ کی نماز سے پہلےیا بعد میں جو سنتیں ہوتی ہیں، ان کی نیت کیا کرنی ہوتی ہے؟
۳۔ کیا غسل کرنے کے بعد وضو کی ضرورت ہے یا غسل سے ہی نماز پڑھ سکتے ہیں؟
۱۔ محض غیر محارم کو دیکھنا نواقض وضو میں سے نہیں، اس لیے اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
۲۔ سنّت کی نیت کر لینا کافی ہے، اس میں جمعہ یا ظہر کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
۳۔ ضروری نہیں، غسل سے ہی نماز پڑھ سکتے ہیں۔
ففی مرقاة المفاتيح: عن عائشة رضي الله عنها، قالت: «كان النبي - صلى الله عليه وسلم - يقبل بعض أزواجه ثم يصلي ولا يتوضأ» . رواه أبو داود. والترمذي، والنسائي، وابن ماجه اھ (1/ 367)
وفی حاشية ابن عابدين: (ولا بد من التعيين عند النية) فلو جهل الفرضية لم يجز؛ ولو علم ولم يميز الفرض من غيره، إن نوى الفرض في الكل جاز، وكذا لو أم غيره فيما لا سنة قبلها (لفرض) أنه ظهر أو عصر قرنه باليوم أو الوقت أو لا هو الأصح اھ (1/ 418)
وفی مرقاة المفاتيح: (وعن عائشة قالت: «كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يتوضأ بعد الغسل» ) : أي: اكتفاء بوضوئه الأول في الغسل، وهو سنة، أو باندراج ارتفاع الحدث الأصغر تحت ارتفاع الأكبر ; بإيصال الماء إلى جميع أعضائه، وهو رخصة اھ (2/ 430)