میرا ایک دوست بریلوی ہے وہ کہتا ہے کہ یوم سیدنا صدیق اکبر منانا بدعت ہے اور ناجائز ہے کیونکہ کسی صحابی نے اسے نہیں منایا کسی تابعی نے اسے نہیں منایا ، قرآن وحدیث سے بھی اس کا ثبوت نہیں ، اگر میلاد منانا بدعت اور ناجائز ہے تو یوم سیدنا صدیق اکبر منانا بھی ناجائز اور بدعت ہے ، مفتیان کرام کیا واقعی یوم سیدنا صدیق اکبر منانا ناجائز ہے؟ رہنمائی کریں تاکہ میں اس کے سوال کا جواب دے سکوں ۔
فی زماننا حضرت ابو بکر یا حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے یوم ولادت منانے کو نہ تو عبادت سمجھ کر منایا جاتا ہے اور نہ ہی اس کی ترغیب دی جاتی ہے، بلکہ حکومت وقت کی غلط پالیسیوں اور دیگر غیر ضروری و غیر شرعی ایام منانے ، ان میں رخصت کا اعلان کرنے وغیرہ کی وجہ سے محض سیاسی طور پر ایک رائے کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اگر اس طرح یوم منانے ہی ہوں تو ایسی مبارک ہستیوں کے ایام منانا زیادہ بہتر ہے ، اس لیے محض اس جدوجہد کو مروجہ یوم میلاد کے جواز پر دلیل سمجھنے سے احتراز چاہیئے ۔
کما في مشكاة المصابيح : عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد» اھ (1/ 51)
ان عمل المولود بدعة لم يقل به ولم يفعله رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم والخلفاء والائمہ (کذا فی شرح البهیة) (ماخوذ از راه سنت - ص ۱۶۴) والله أعلم با الصواب
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1