نکاح

عورت اور اسکی بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا

فتوی نمبر :
19250
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

عورت اور اسکی بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا

کیا کوئی شخص اپنی بیوی کی موجودگی میں بیوی کے بھائی کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بیوی کے نکاح و عدت میں ہوتے ہوئے اس کی بھتیجی سے نکاح کرنا ناجائز اور حرام ہے، البتہ بیوی کی موت یا طلاق کی صورت میں اسکی عدت گزرنے کے بعد اس کی بھتیجی سے نکاح درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الدر المختار: (و) حرم (الجمع) بين المحارم (نكاحا) أي عقدا صحيحا (وعدة ولو من طلاق بائن، و) حرم الجمع (وطء بملك يمين بين امرأتين أيتهما فرضت ذكرا لم تحل للأخرى) أبدا لحديث مسلم «لا تنكح المرأة على عمتها» وهو مشهور يصلح مخصصا للكتاب. (وفي رد المحتار: تحت) (قوله: أيهما فرضت إلخ) أي أية واحدة منهما فرضت ذكرا لم يحل للأخرى كالجمع بين المرأة وعمتها أو خالتها، والجمع بين الأم والبنت نسبا أو رضاعا۔اھ (3/38)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 19250کی تصدیق کریں
0     524
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات