جہاں تک میری معلومات ہیں کہ گاؤں میں جمعہ کی ممانعت قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ تو یوں کیوں کہا جاتا ہے کہ وہاں جمعہ قائم نہ کیا جائے،براہ ِکرم اس سلسلہ میں مجھے قرآن پاک سے حوالہ دیں ۔
شریعتِ مطہرہ میں ہر کام کےلئے کچھ شرائط ہوتی ہیں، جمعہ کےلئےبھی یہ شرط ہے کہ وہ شہر یا بڑے قصبہ میں ہو،سائل کا اس سلسلہ میں مذکور سوال بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی مسئلہ بیان کرے کہ حج کےلئے سعودی عربیہ کے مقامات مخصوصہ جانے کا حکم ہے اور وہ یہ سوال کرے کہ کراچی میں حج کرنے کی تو قرآن و حدیث میں ممانعت ثابت نہیں، تو وہاں حج کیوں نہ کیا جائے ؟ اس سلسلہ میں مجھے قرآن و حدیث سے حوالہ دیا جائے، ظاہر ہے اسے یہی کہا جائے گا کہ شریعت نے حج کےلئے کچھ ارکان و شرائط مقرر کی ہیں جو یہاں نہیں پائی جاتیں۔
کما فی أحكام القرآن للجصاص: {يا أيها الذين آمنوا إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلى ذكر الله} الآية. قال أبو بكر يفعل في يوم الجمعة جماعة صلوات كما يفعل في سائر الأفعال ولم يبين في الآية أنها هي واتفق المسلمون على أن المراد الصلاة التي إذا فعلها مع الإمام جمعة لم يلزمه فعل الظهر معها وهي ركعتان بعد الزوال على شرائط الجمعة واتفق الجميع أيضا على أن المراد بهذا النداء هو الأذان، ولم يبين في الآية كيفيته وبينه الرسول صلى الله عليه وسلم في حديث عبد الله بن زيد الذي رأى في المنام الأذان ورآه عمر أيضا كما رآه ابن زيد وعلمه النبي صلى الله عليه وسلم أبا محذورة وذكر فيه الترجيع وقد ذكرنا ذلك عند قوله تعالى: {وإذا ناديتم إلى الصلاة۔الخ} (3/ 594)۔