میں نے پوچھنا تھا کہ اگر انسان چالیس دن زیرِ ناف یا بغل کے بال صاف نہ کرے، اس کے بعد ہماری نماز ٹھیک ہوگی یا قبول ہوگی؟ اور ہمارا کھانا، پینا جائز ہوگا؟
زیرِ ناف اور بغل کے بالوں کے متعلق مسنون یہ ہے کہ ہفتہ یا پندرہ دن میں کاٹ لینے چاہییں، اگر چالیس دن تک بھی نہ کاٹے تو وہ سخت گناہ گار اور وعید کا مستحق ہے، مگر اس کی وجہ سے اس کی نماز اور کھانے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ففی الدر المختار: (و) يستحب (حلق عانته وتنظيف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة) والأفضل يوم الجمعة وجاز في كل خمسة عشرة وكره تركه وراء الأربعين اھ (6/ 406)