نجاسات اور پاکی

واش روم کے جوتوں کی طہارت کا حکم

فتوی نمبر :
41362
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

واش روم کے جوتوں کی طہارت کا حکم

اس سےپہلے میں نے ایک مسئلہ دریافت کیا تھا ، لیکن میں اپنے سوال میں تھوڑی سی وضاحت کرنا چاہتا ہوں ،ایسے پختہ فرش پر جہاں پر ایسے جوتوں کا question بھی استعمال ہو ، جو استنجاء خانہ اور غسل خانہ میں بھی استعمال ہوتے ہوں تو اس فرش پر پاوں کو گیلا کر کے ننگے پاوں پھر نا کیسا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

استنجاء خانہ اور غسل خانہ میں استعمال ہونے والے جوتوں پر اگر کوئی ظاہری نجاست لگی ہوئی نہ ہو تو فرش پر ان جوتوں کے استعمال سے فرش ناپاک نہ ہو گا ، لہذا ایسے فرش پر گیلے پاؤں چلنے پھر نے کیوجہ سے پاؤں ناپاک نہ ہونگے ، البتہ احتیاط اسی میں ہے کہ ایسے فرش پر ننگے پاؤں چلنے پھرنے کے بعد نماز سے قبل پاؤں کو دھو لیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : نام أو مشى على نجاسة، إن ظهر عينها تنجس وإلا لا. ولو وقعت في نهر فأصاب ثوبه، إن ظهر أثرها تنجس وإلا لا. لف طاهر في نجس مبتل بماء إن بحيث لو عصر قطر تنجس وإلا لاولو لف في مبتل بنحو بول، إن ظهر نداوته أو أثره تنجس وإلا لا الخ (1/345)۔
و فی رد المحتار : تحت (قوله : مشى في حمام و نحوه) أي : كما لو مشى على ألواح مشرعة بعد مشي من برجله قذر لا يحكم بنجاسة رجله ما لم يعلم أنه وضع رجله على موضعه للضرورة فتح و فيه عن التنجيس : مشى في طين أو أصابه و لم يغسله و صلى تجزيه ما لم يكن فيه أثر النجاسة ؛ لأنه المانع إلا أن يحتاط اھ(350)۔
و فی الفتاوی الھندیة : و لو وضع رجله المبلولة على أرض نجسة أو بساط نجس لا يتنجس و إن وضعها جافة على بساط نجس رطب إن ابتلت تنجست و لا تعتبر النداوة هو المختار كذا في السراج الوهاج ناقلا عن الفتاوى اھ(1/47)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 41362کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات