نجاسات اور پاکی

غسلِ جنابت میں تاخیر کرنا اور ایسی حالت میں دودھ پلانا

فتوی نمبر :
23694
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

غسلِ جنابت میں تاخیر کرنا اور ایسی حالت میں دودھ پلانا

سردیوں میں ہمبستری کے بعد اگر طہارت حاصل نہ کریں کہ صبح اُٹھ کر کرلیں گے تو کیا اس کی گنجائش ہے؟ اور اگر گنجائش ہے تو کیا بیوی اسی حالت میں بچے کو اپنا دودھ پلاسکتی ہے؟ راہ نمائی فرمائیں!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ہمبستری کے بعد فوراً غسل کرنا ضروری نہیں اس لیے سردی یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے فوری غسل کرنا ممکن نہ ہو تو صرف وضوکرلینا کافی ہے، صبح اُٹھ کر غسل کیا جاسکتا ہے اور جنابت کی حالت میں بچے کو دودھ پلانا بھی جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الصحیح للإمام البخاری: عن عبد الله بن عمر رضی الله عهنما أنه قال ذكر عمر بن الخطاب لرسول الله ﷺ أنه تصیبه الجنابة من اللیل فقال له رسول الله ﷺ توضأ واغسل ذكرك ثم نم. اهـ (1/43)
وفی اعلاء السنن: عن عائشة رضی الله عنها كان رسول الله ﷺ اذا كان جنبًا وأراد أن یأكل أو ینام توضأ وضوءه للصلوة اهـ وقال الشارح تحته وبالجبلة فقد ثبت عنه ﷺ تأخیر الغسل الٰی وقت الصلوٰة اھ (1/168)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبداللہ گلدار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 23694کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات