السلام علیکم
گزارش ہے کہ میں مفلوج ہوں اور بستر پر پڑا رہتا ہوں ؟ایک پتھر سے تیمم کر کے نماز ادا کرتا ہوں آج کل کرونا وائرس کی وبا ء پھیلی ہو ئی ہے اور ڈاکٹر با ربار صابن سے ہاتھ دھونے کو کہتے ہیں جو میرے لئے بہت مشکل ہےڈاکٹر ایک الکوحل ملا سنیٹائزر استعمال کر نے کا کہتے ہیں کیا میں یہ استعمال کر سکتا ہوں اس سے پاکیزگی رہے گی اور نماز ہوجائے گی مہر بانی فر ماکر اس کا فوری جواب دیا جائے؟
واضح ہو کہ دواؤں میں ،یا اس جیسی دوسری مصنوعات میں جو الکوحل ملا یا جاتا ہے،وہ عام طور پر کھجور اور انگور کے علاوہ دوسرے اجناس مثلا گندم ،جو وغیرہ سے کشید شدہ ہوتا ہے اور اس جیسے الکوحل کا خارجی استعمال امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک جائز ہے،لہذا سوال میں مذکور مائع ’’سینیٹائزر‘‘میں بھی اگر مذکورہ بالا الکوحل ملا ہو،تو اس کو ہاتھوں پر لگانے سےہاتھ ناپاک نہ ہو ں گے،اسلئے مذکور بیماری سے تحفط کیلئے اسکے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
کمافی تکملۃ فتح الملھم: وأما غیر الأشربۃ الأربعۃ فلیست نجسۃ عند الاما م ابی حنیفہؒ وبہذا یتبیین حکم الکحول المسکرۃ التی عمت بھا البلوی الیوم فانھا تستعمل فی کثیر من الإدویۃ والعطور والمرکبات الأخریٰ فإنھا إن اتخذت من العنب أو التمر، فلا سبیل إلٰی حلتہا، أو طہارتہا وان اتخذت من غیرھما فالا مر فیھا سھل علی مذھب ابی حنیفۃؒ ولا یحرم استعمالھا للتداوی او لِإغراض مباحۃ اخری مالم تبلغ حد الاسکار۔ (ج۳ص۶۰۸) اھـ واللہ اعلم باالصواب