السلام علیکم مفتی صاحب! جس طرح ہمارے گھروں میں ہاتھ روم میں فلش لگے ہوتے ہیں، ہم اسی فلش میں پیشاب، پاخانہ کرتے ہیں، استنجاء بھی وہاں کرتے اور پانی بہا دیتے ہیں، تو کیا اس کے بعد فلش والی جگہ سے اٹھ " کر دوسری جگہ پر دوبارہ پرائیویٹ پارٹس (شرمگاہ) پر پانی بہانا ضروری ہے، کیونکہ اکثر لوگوں سے سنا ہے کہ فلش والی جگہ پر پیشاب کر کے پانی بہانے کے بعد نیچے دوسری جگہ بیٹھ کر دوبارہ پانی بہایا جائے ، جس جگہ ہم غسل بھی کرتے ہیں برائے کرم رہنمائی فرماد میں جزاک اللہ خیرا۔
واضح ہو کہ فلش والی جگہ پر استنجاء کرنے کے بعد وہاں سے اٹھ کر دوبارہ دوسری جگہ اعضاء مخصوصہ کو دھونا ضروری نہیں بشر طیکہ استنجاء کرتے وقت جسم پر ناپاک پانی کے قطرات پڑنے کا اندیشہ نہ ہو، لہذا سوال میں ذکر کر وہ بات درست نہیں بلکہ بے اصل اور بے بنیاد ہے۔
كما في التنزيل العزيز: فيه رجال يحبون ان يتطهروا والله يحب المطهرين (التوبة: 108)
وفي مشكاة المصابيح: عن ابن عباس قال:مر النبيﷺ يقبرين فقال: انهما ليعذبان وما يعذبان فى كبير اما احدهما فكان لا يستتر من البول اهـ (ج:1 ص: 42)
وفي الفتاوى السراجية: الشرط فى الاستنجاء الانقاء دون العدد الى قوله) الغسل في الاستنجاء غير مقدر و لكنه يغسل حتى يطمئن قلبه اهـ (ص:42)
وفي الفتاوى التاتارخانية: وفى القدورى: وما لم يكن مرئية فالطهارة موكولة الى غلبة الظن ( الى قوله) وفى الخلاصة : ثم التقدير ليس بلازم عندنا بالثلاث بل هو مفوض الى اجتهاده اهـ (ج 1 ص : 450)
وفي الفتاوى الهندية: وازالتها ان كانت مرئية بازالة عينها و اثرها ان كانت شيئاً يزول اثره ولا يعتبر فيه العدد كذا في المحيط فلو زالت عينها بمرة اكتفى بها اهـ ( ج : 1 ص:46)