نجاسات اور پاکی

کنویں کا پانی کب ناپاک ہوتا ہے

فتوی نمبر :
25135
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

کنویں کا پانی کب ناپاک ہوتا ہے

کراچی میں گندے پانی کے بڑے ندی نالوں کے پاس بیس سے تیس فٹ کے فاصلے پر کنواں ہو،اس میں پانی صاف اور میٹھا غیر بدبودار ہو تو اس پانی کا پینے وضو اور دیگر گھریلو استعمال کے لئے جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور کنویں کے پانی میں اگر نجاست کا کوئی اثر رنگ، بو، مزہ ظاہر نہ ہو رہا ہو، جیسا کہ سوال سے بھی ظاہر ہے تو پانی کا استعمال پینے، وضو اور دیگر گھریلو ضروریات کے لئے جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوی الھندیة: بئر الماء إذا كانت بقرب البئر النجسة فهي طاهرة ما لم يتغير طعمه أو لونه أو ريحه. كذا في الظهيرية ولا يقدر هذا بالذرعان حتى إذا كان بينهما عشرة أذرع وكان يوجد في البئر أثر البالوعة فماء البئر نجس وإن كان بينهما ذراع واحد ولا يوجد أثر البالوعة فماء البئر طاهر. كذا في المحيط وهو الصحيح. هكذا في محيط السرخسي اھ (1/20)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 25135کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات