کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دودھ فروش کے پاس جو دودھ لایا جاتا ہے ، اس میں کافی مقدار میں بھینس کا گو بر ہوتا ہے ، وہ لوگ ململ کے کپڑے سے چھان کر بیچتے ہیں، گو بر تو نجاستِ غلیظہ میں شامل ہے ، ایسے دودھ کا پینا کیسا ہے ؟
واضح ہو کہ اگر دودھ دوہتے وقت تھوڑی مقدار میں گو بر دودھ میں گر جائے اور اسے جلدی سے نکال لیا جائے کہ اس کا رنگ اور اثر دودھ میں ظاہر نہ ہو تو ضرورۃً ایسا دودھ ناپاک نہیں ، اس کا استعمال جائز ہے، لیکن اگر زیادہ مقدار میں گو بر دودھ میں گر جائے ، اس طورپر کہ اس کے اثرات دودھ میں ظاہر ہو جائیں ، تو ایسی صورت میں وہ دودھ ناپاک شمار ہو گا، چنانچہ ایسے نا پاک دودھ کا استعمال جائز نہ ہو گا۔
کما فی الدر المختار : (وبعرتي إبل وغنم، كما) يعفى (لو وقعتا في محلب) وقت الحلب (فرميتا) فورا قبل تفتت وتلون، والتعبير بالبعرتين اتفاقي؛ لأن ما فوق ذلك كذلك، ذكره في الفيض وغيره، ولذا قال (قيل القليل المعفو عنه ما يستقله الناظر والكثير بعكسه وعليه الاعتماد) كما في الهداية وغيرها؛ لأن أبا حنيفة لا يقدر شيئا بالرأي اھ (1/221)۔
و فی الفتاوى التاتارخانية : و إذا حلب شاة أو ضأناً فان وقع بعرة في المحلب حكى عن المتقدمين من المشائخ أنهم توسعوا فی ذلك اذا رمى من ساعته و المتأخرون اختلفوا فيه و فی العتابية: اللبن طاھر، و عليه جماعة من المتقدمين و ھو المأخوذ و انتفتت البعرة في اللبن يصير نجساً لا يطهر بعد ذلك اھ (1/324)۔