کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے ہاں ایک جگہ نماز پڑھنے کیلئے وقف کی گئی ہے اس جگہ پر لوگ نماز پڑھتے ہیں البتہ باقاعدہ کوئی مسجد نہیں بنی ہوئی ہے لیکن پانچوں نمازیں اس جگہ میں پڑھی جاتی ہیں تو کیا ایسی جگہ پر نمازِ جمعہ قائم کی جاسکتی ہے؟ جس میں باقاعدہ مسجد نہیں بنی ہوئی ہو اور لوگ بھی محدود ہوں اور قریب میں دو تین بڑی مسجدیں بھی ہوں جن میں پانچوں وقت کی نماز اور جمعہ قائم کیا جاتا ہو؟ مسئلہ کی پوری وضاحت قرآن و سنت کی روشنی میں فرماکر عنداﷲ ماجور ہوجائیں۔
ایسی جگہ نماز جمعہ کا انتظام کرنا اور نماز ادا کرنا اگرچہ شرعاً جائز اور درست ہے مگر ایک شرعی مسجد جہاں مسلمانوں کا ایک جمِ غفیر ہوتا ہے اور نمازِ جمعہ کے قیام کا مقصد بھی یہی ہے، جو قبولیت کے بھی زیادہ قریب ہے، وہاں جانے سے احتراز کرنا اور محض اپنی سہولت اور سستی کی بناء پر مذکور جگہ نمازِ جمعہ کا ادا کرنا دین متین کو اپنے تابع کرنے اور اس کی اہمیت کے نہ ہونے کے مترادف ہے، لہٰذا بہتر تو یہی ہے کہ قریب کی بڑی اور جامع مسجد میں جاکر مسلمانوں کے ایک جم غفیر کے ساتھ نماز ادا کی جائے۔
فی الدر: وتؤدی فی مصرٍ واحدٍ بمواضع کثیرۃ مطلقا علی المذہب وعلیہ الفتوٰی۔ اھـ (ج۲، ص۱۴۴)۔