نجاسات اور پاکی

واٹر ٹینک میں کبوتر گر کر مرنے سے ٹینک کی پاکی ناپاکی کا حکم

فتوی نمبر :
34903
| تاریخ :
2018-07-25
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

واٹر ٹینک میں کبوتر گر کر مرنے سے ٹینک کی پاکی ناپاکی کا حکم

اگر واٹر ٹینک میں کبوتر مر جائے تو اس صورت میں کیا شرعی حکم ہوگا ؟ اور کیا ۳ دن کی نمازیں دہرانی پڑینگی؟ واٹر ٹینک کی لمبائی ۳۰ فٹ ، چوڑائی ۱۲ فٹ، گہرائی ۱۰ فٹ ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور واٹر ٹینک کی لمبائی ، چوڑائی اور گہرائی سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹینک میں موجود پانی ماءِ کثیر کے حکم میں ہے، اب اگر ٹینک میں کبوتر کے گر کر مرنے سے پانی کے رنگ ، بو ، یا ذائقہ میں کوئی تغیر نہ آیا ہو ، تو پانی کو پاک سمجھا جائے گا اور اس پانی سے وضو کرنے کے بعد جتنی نمازیں پڑھی گئی ہیں ، وہ درست ادا ہوئی ہیں ، اس لۓ ان کو لوٹانے کی ضرورت نہیں ، البتہ اگر کبوتر کے گر کر مرنے سے پانی میں تغییر آیا ہو یعنی پانی کے اوصاف رنگ ، بو ، یا ذائقہ میں سے کسی وصف میں کوئی تبدیلی آئی ہو ، اور کبوتر کے گرنے کا صحیح وقت بھی معلوم ہو ،تو کبوتر کے گرنے کے بعد سے جتنی نمازیں اس پانی سے وضو کر کے ادا کی گئی ہیں ، ان کا اعادہ لازم ہے، تاہم اگر گرنے کا وقت معلوم نہ ہو ، تو کبوتر نکالتے وقت اگر وہ پھولا یا پھٹا نہ ہو ، تو ایک دن رات کی نمازیں لوٹانا لازم ہے اور اگر وہ پھٹا یا پھولا ہو تو تین دن رات کی نمازیں لوٹانا ضرور ی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار : (و يحكم بنجاستها) مغلظة (من وقت الوقوع إن علم ، و إلا فمذ يوم و ليلة إن لم ينتفخ و لم يتفسخ) و هذا (في حق الوضوء) و الغسل (إلی قوله) (و مذ ثلاثة أيام) بلياليها (إن انتفخ أو تفسخ) استحسانا اھ (1/ 218)۔
و فیه أیضاً : فلذا أفتى به المتأخرون الأعلام : أي في المربع بأربعين ، و في المدور بستة و ثلاثين، و في المثلث من كل جانب خمسة عشر و ربعا و خمسا بذراع الكرباس ، و لو له طول لا عرض لكنه يبلغ عشرا في عشر جاز تيسيرا ، و لو أعلاه عشرا و أسفله أقل جاز حتى يبلغ الأقل اھ (1/ 193)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عطاء محمد سلطان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 34903کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات