اسلامی خلافت میں تارکِ جمعہ کی کیا سزاہے؟
تارکِ جمعہ کےلیے احادیث مبارکہ میں بڑی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں حتی کہ ایک حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص سستی کیوجہ سے تین جمعے چھوڑ دے اللہ تعالی اس کے دل پر مہر لگا دیں گے۔ جبکہ ایسا شخص فاسق اور فاجر ہے اس کی گواہی قبول نہ ہوگی البتہ اس کےلیے کوئی حد متعین نہیں تاہم اگر اسلامی حکومت ہو تو حاکم وقت اپنی صوابدیدپر ایسے شخص کیلئے تعزیری سزا تجویز کرسکتا ہے۔
ففي سنن ابي داود: أن رسول الله صلى الله علیہ وسلم قال -من ترك ثلاث جمع تهاونا طبع الله قلبه (۱۷۷/۱)
و في الدر المختار : وكل مرتكب معصية لاحد فيها فيها التعزير (٢ / ٦٧)