مفتی صاحب! آپ سے یہ عرض کرنا ہے کہ دار العلوم دیو بند کا فتوی ہے کہ مستورات کا سہ روزہ ، چلہ اور باہر ممالک تبلیغ کیلئے جانا جائز نہیں ہے؟ پوچھنا یہ ہے کہ تبلیغی جماعت میں مفتی صاحبان بھی ہیں اور تبلیغ والے دیوبندی مسلک سے بھی ہیں تو وہ لوگ تو اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دعوت کا کام ہر انسان پر فرض ہے اور وہ نصرت کی جماعتیں بھی بھیجتے ہیں، اس سلسلے میں معلوم کرنا تھا کہ جو لوگ اپنی مستورات کو تبلیغ کے سلسلے میں سہ روزہ، چلہ اور باہر نہیں لے جاتے تو کیا وہ گناہگار ہونگے یا آخرت میں اللہ کی پکڑ ہو گی؟
دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ تو ہماری نظر سے نہیں گزرا، تاہم عورتوں کا تبلیغ میں جانا فرض نہیں، بلکہ واجب یا سنت بھی نہیں، اس لئے تبلیغ میں نہ جانے کی صورت میں عورتیں گناہگار بھی نہیں ہوں گی، البتہ اتنی بات ہے کہ دین سیکھنے کی ضرورت جس طرح مردوں کو ہے ایسے ہی عورتوں کو بھی ہے، اس لئے عورتوں کیلئے تبلیغ میں جانا فی نفسٖہ درج ذیل چند شرائط کے ساتھ جائز ہے۔
1- عورت کے سرپرست یا شوہر کی اجازت ہو۔
2- اگر سفرِ شرعی ہو تو محرم یا شوہر کا ساتھ ہونا لازمی ہے۔
3- کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہوں۔
4- زینت یا بناؤ سنگھار کر کے یا مہکنے والی خوشبو لگا کر نہ نکلیں۔
5- عورتیں جس گھر میں ٹھہریں، وہاں پردے کا مکمل انتظام ہو۔
6- دورانِ تعلیم عورتوں کی آواز غیرمحرم نہ سنیں۔
اب تک ہمارے علم کے مطابق جو عورتیں جماعتوں میں جاتی ہیں، وہ ان شرائط کا لحاظ رکھتی ہیں۔
کمافي مشكاة المصابيح: عن حذيفة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "والذي نفسي بيده لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر أو ليوشكن الله أن يبعث عليكم عذابا من عنده ثم لتدعنه ولا يستجاب لكم". رواه الترمذي (2/436)