مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ جمعہ کی پہلی اذان کا شرعی حکم کیا ہے؟ امام مالکؒ کا اس کے بارے میں کیا قول ہے؟ حوالۂ کتب کے ساتھ بتائیں اور ان کی دلیل کیا ہے؟
خلیفہ راشد حضرت عثمانؒ کے عہدِ خلافت میں جمعۃ المبارک کی پہلی اذان شروع ہوئی اور اس پر تمام صحابہ کرامؒ کا اجماع و اتفاق ہوگیا۔
لہٰذا جمعہ کی اذانِ اوّل بہ اجماعِ امت سنت ہے اور کسی مسئلہ پر صحابہ کرامؓ کا اجماع مستقل حجت اور دلیل ہے۔
{وَ مَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَ نُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا} [النساء: 115]۔
یعنی جو شخص رسول ﷺ کی مخالفت کرےگا بعد اس کے کہ راہِ ہدایت اس کے سامنے واضح ہوچکا تو ہم اس کو (دنیا میں) جو کچھ وہ کرتا ہے کرنے دیں گے اور (آخرت میں) اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔
اور نبی کریمﷺ کا ارشاد مبارک ہے:
سنن الترمذي : عن ابن عمر، أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله لا يجمع أمتي ، أو قال : أمة محمد صلى الله عليه و سلم، على ضلالة، و يد الله مع الجماعة، و من شذ شذ إلى النار . (4/ 36)۔
فرمایا کہ اللہ تعالیٰ میری امت کو کسی گمراہی پر متفق و مجتمع نہیں کرےگا اور اللہ کا ہاتھ (تائید) جماعت کے ساتھ ہے اور جو الگ راستہ اختیار کرےگا جہنم میں جائےگا۔
نیز نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:
مشكاة المصابيح : فعليكم بسنتي و سنة الخلفاء الراشدين المهديين اھ (1/ 58)۔
کہ تم پر میرے اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کی اتباع لازم ہے ، جبکہ اس سلسلے میں امام مالکؒ کا مسلک بھی یہی ہے ، ملاحظہ ہو : الفقہ المالکی و ادلتہ( ۳/۲۵۹، تالیف: الحبیب بن طاہر)۔