جمعہ کی جماعت میں دور رکعتیں فرض ہیں، اگر جمعہ والے دن عام ظہر کی نماز کی طرح چار فرض پڑھ لیے جائیں، تو ظہر کی نماز ادا ہو جائے گی یا نہیں، پاس مسجد بھی نہ ہو؟
جمعہ کے دن بغیر کسی عذر کے جمعہ کی نماز چھوڑ کر قصداً ظہر کی نماز ادا کرنا ناجائز اورحرام ہے اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کوئی عذرِشرعی (بیماری وغیرہ ) ہو اور اس عذر کی وجہ سے جمعہ کی جماعت میں حاضری دشوارہو یا بغیر عذر کے اگر کسی کا جمعہ رہ جائے اوروہ اپنی انفرادی نماز میں دو رکعت کے بجائے ظہر کی چار رکعت پڑھے، تو اس کی نماز درست ادا ہو جائےگی ۔
كما في الدر: (وحرم لمن لا عذر له صلاة الظهر قبلها) أما بعدها فلا يكره غاية فى يومها لمصر ) لكونها سبب لتفويت الجمعة وهو حرام (الى قوله ) ويستحب للمريض تأخير ها إلى فراغ الإمام وكره إن لم يؤخر الخ (2/ 157)۔