ہمارے شہر میں ایک ہی صغیر مسجد ہے جمعہ کو مصلی زیادہ ہونے کی وجہ سے دو دفعہ پڑھتا ہے تو تمام مصلیوں نے نماز کے بعد کام کو جانا ہے تو میرا پوچھنا ہے ظہر کے وقت کے پہلے اور دوپہر کے بعد پہلا جماعت کرسکتاہے۔
واضح ہو کہ قیام جمعہ کیلئے مسجد شرط نہیں اس لیے جمعہ کی نماز مذکورہ خاص جگہ کے علاوہ بھی پڑھی جاسکتی ہے بشرطیکہ ظہر کا وقت ہوچکاہو اور امام کے علاوہ تین مقتدی ہوں جبکہ ایک ہی مسجد میں جہاں امام اور مقتدی متعین ہوں وہاں دو مرتبہ جمایت کی نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الہندیۃ: وتؤدی الجمعۃ فی مصر واحد فی مواضع کثیرۃ وہو قول أبی حینفۃ ومحمدؒ وہو الأصح (ج: ۱/ ۱۴۵)
وفی الشامیۃ: تحت قولہ (علی المذہب) فقد ذکر الامام السرخسیؒ أن الصحیح من مذہب أبی حنیفۃؒ جواز اقامتہا فی مصر واحد فی مسجدین أو اکثر وبہ نأخذ لاطلاق ’’لا جمعۃ إلا فی مصر‘‘ شرط المصر فقط. (ج: ۲/ ۱۴۵)
وفی البحر الرائق: تحت قولہ (وتؤدی الجمعۃ فی مواضع) أی أداء الجمعۃ فی مصر واحد بمواضع کثیرۃ وہو قول أبی حنیفۃ ومحمد رحمہما اللہ تعالٰی وھو الأصح لأن فی الاجتماع فی موضع واحد فی مدینۃ کبیرۃ حرجًا بینًا. (ج: ۲/ ص ۱۴۲)
وفی تنویر الابصار: ویشترط لصحتہا المصر وہو ما لا یسع اکبر مساجدہ أہلہ المکلفین بہا (الی قولہ) والسلطان أو مأمؤرہ بإقامتہاا الخ. (ج: ۲/ ۱۳۷)
وفی الشامیۃ: تحت قولہ (قولہ تغلق) لئلا تجتمع فیہا جماعۃ بحر عن السراج (قولہ إلا الجامع) أی الذی تقام فیہ الجمعۃ فإن فتحہ فی وقت الظہر ضروری والظاہر أنہ یغلق أیضًا بعد اقامۃ الجمعۃ لئلا یجتمع فیہ أحد بعدہا. (ج: ۲ ص: ۱۵۷)۔ واللہ اعلم