ایک لڑکا جس کو اسکی خالہ کی بڑی بیٹی نے غلطی سے دودھ پلایا ہو ، اسکا رشتہ اس خالہ کی دوسری بیٹی مطلب دودھ پلانے والی عورت کی دوسری بہن کے ساتھ طے ہوتا ہے؟ کیا شرعاً یہ رشتہ قابل قبول ہے؟
جس لڑکے کو مدت رضاعت میں اسکی خالہ کی بیٹی نے دودھ پلایا ہے وہ اپنی اس خالہ زاد بہن کا رضاعی بیٹا بن گیا ہے، لہذا اس کے ساتھ مذکور لڑکی (جو رضاعی خالہ بن گئی) کا عقدِ نکاح جائز نہیں ۔
كما في الهداية: قال ويحرم من الرضاع ما يحرم من النسب للحديث الذي روينا۔اھ (2/ 351)
وفي الدر المختار : (فيحرم منه) اى بسببه ) ما يحرم من النسب ) رواه الشيخان (وفي رد المحتار تحت) (قوله ما يحرم من النسب) معناه أن الحرمة بسبب الرضاع معتبرة بحرمة النسب۔اھ (3/ 312)