نکاح

رضاعی خالہ سے نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
32747
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

رضاعی خالہ سے نکاح کرنے کا حکم

ایک لڑکا جس کو اسکی خالہ کی بڑی بیٹی نے غلطی سے دودھ پلایا ہو ، اسکا رشتہ اس خالہ کی دوسری بیٹی مطلب دودھ پلانے والی عورت کی دوسری بہن کے ساتھ طے ہوتا ہے؟ کیا شرعاً یہ رشتہ قابل قبول ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جس لڑکے کو مدت رضاعت میں اسکی خالہ کی بیٹی نے دودھ پلایا ہے وہ اپنی اس خالہ زاد بہن کا رضاعی بیٹا بن گیا ہے، لہذا اس کے ساتھ مذکور لڑکی (جو رضاعی خالہ بن گئی) کا عقدِ نکاح جائز نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الهداية: قال ويحرم من الرضاع ما يحرم من النسب للحديث الذي روينا۔اھ (2/ 351)
وفي الدر المختار : (فيحرم منه) اى بسببه ) ما يحرم من النسب ) رواه الشيخان (وفي رد المحتار تحت) (قوله ما يحرم من النسب) معناه أن الحرمة بسبب الرضاع معتبرة بحرمة النسب۔اھ (3/ 312)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 32747کی تصدیق کریں
0     601
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات