(۱) کیا زکوة ماہانہ کی بنیاد پر دی جا سکتی ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ کیا کوئی شخص متعین قیمت جیسے ہزار روپے کسی کو زکوة کی نیت سے دے سکتا ہے؟ سال کے آخر میں وہ اپنا واجب الاداء زکوة کا حساب لگاتا ہے اور بقیہ زکوۃ ادا کرتا ہے ، فرض کیجئے اس نے ہزار روپے ہر مہینے ادا کئے مگر سال کے آخر میں اس پر پندرہ ہزار (15000) روپے زکوة ہے اور وہ بارہ ہزار (12000) دے چکا اور صرف تین ہزار (3000) ادا کرنا ہے۔ اس کا ارادہ مالی بوجھ کم کرنا ہے ۔(۲) کیا سگی بہن کو زکوۃ دی جا سکتی ہے جو بہت غریب ہو۔
1۔ جی ہاں! ہر مہینے تھوڑی تھوڑی کر کے زکوۃ ادا کرنے سے بھی زکوة ادا ہو جاتی ہے ۔ (2) سگی بہن اگر واقعه مستحق زکوۃ اور غیر سید ہو تو اس کو زکوة دینا نہ صرف جائز بلکہ دہرے اجر کا باعث ہے۔
ففي الدر المختار: (وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكما) كما لو دفع بلا نية ثم نوى والمال قائم في يد الفقير ( إلى قوله ) ( أو مقارنة بعزل ما وجب) كله أو بعضه اھ (2/ 268)
و فى التاتارخانية : و في المضمرات: ذكر الزندويسنى: الأفضل صرف الزكوتين يعني صدقة الفطر وزكوة المال إلى احد هولاء السبعة الاول : إخوته الفقراء واخواته ثم إلى اولادهم ثم إلى أعمامه الفقراء ثم إلى أخواله و خالاته ثم ذوي الأرحام الفقراء ثم إلى جيرانه ثم إلى اهل سكته ثم إلى اهل مصره ، وقال ابو جعفر الكبير البخاري : " لا تقبل صدقة الرجل و قرابته معاويج حتى يبدأ بهم فيسد حاجتهم ثم يبدأ فى غير قرابته محاويج اھ (۲/ ۲۷۱) والله اعلم