میں میٹرک کے بعد دنیاوی تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتا ہوں، بلکہ دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہوں تو میرے والدین مجھے نہیں چھوڑ رہے ہیں اور مجھے تبلیغی جماعت کے ساتھ دلچسپی ہے، میرے والدین مکمل طور پر دین میں داخل نہیں ہونے دے رہے ہیں، برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ ہر شخص پر علومِ دینیہ کا ماہر اور عالم بننا ضروری اور لازم نہیں، اتناضرور ہے کہ روز مرہ کی زندگی گزارنے کے لئے جن مسائل کی ضرورت پڑتی ہے، ان کا سیکھنا لازم ہے، چنانچہ سائل کے والدین اگر اس کو علومِ دینیہ کے لئے فارغ کر کے بخوشی اجازت دیدیں تو بہتر، ور نہ عصری تعلیم کو جاری رکھنے کے ساتھ قریبی کسی عالم سے وقت لیکر ان سے ضروری مسائل سیکھ لینا سائل کے لئے کافی ہو گا اور مقامی تبلیغی حضرات سے ملکر مقامی مسجد میں تبلیغ کا کام بھی کر تا رہے اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک رکھے، جبکہ ان کو دین سمجھانے یا دین پر عمل کرانے کے لئے ان پر سختی اور بد اخلاقی سے کام نہ لے، ان شاء اللہ بہتر ہو گا۔
كما في الدر المختار: (لا) يفرض (على صبي) وبالغ له أبوان أو أحدهما؛ لأن طاعتهما فرض عين «وقال - عليه الصلاة والسلام - للعباس بن مرداس لما أراد الجهاد الزم أمك فإن الجنة تحت رجل أمك» سراج وفيه لا يحل سفر فيه خطر إلا بإذنهما اھ (4/124)
وفيه أیضاً: واعلم أن تعلم العلم يكون فرض عين وهو بقدر ما يحتاج لدينه. وفرض كفاية، وهو ما زاد عليه لنفع غيره. ومندوبا، وهو التبحر في الفقه وعلم القلب اھ (1/42)