السلام علیکم ، محترم مفتی صاحب! ہمارے گاؤں کے مدرسے میں بہت عرصے سے نمازِ جمعہ ہوتا ہے ، ۲۰۰۹ کے فوجی آپریشن سے پہلے مدرسہ ایک منظم طریقے سے چلتا تھا ، لیکن آپریشن کے بعد مستقل امام نہیں تھا ، گاؤں کے حفاظ نماز پڑھاتے تھے ، ۲۰۱۸ میں مدرسے کو دوبارہ شروع کیا ، اب جو امام ہے اس سے بعض لوگ ناراض ہیں ، اور لوگوں نے ایک اور مسجد میں نمازِ جمعہ شروع کیا ہے، آیا ۳۰۰۰ نفوس کی آبادی (جس میں مسافر و خواتین ، بچے شامل ہیں) میں دو مسجد میں نمازِ جمعہ پڑھنا صحیح ہے؟
اصل یہ ہے کہ گاؤں میں جمعہ صحیح نہیں اور شہر و قصبات میں صحیح ہے ، قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ آبادی چار ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ ہو اور ایسا بازار موجود ہو جس میں دکانیں ، چالیس ، پچاس متصل ہوں ، اور بازار روزانہ لگتا ہو ، اور بازار میں ضروریاتِ روزمرّہ کی ملتی ہوں ، مثلاً جوتہ کی دوکان، کپڑے کی، عطّارکی، بزّاز کی بھی، غلّہ کی بھی، اور دودھ کی بھی ، اور وہاں ڈاکٹر یا حکیم بھی ہو ، معمار و مستری بھی ہوں ، وغیرہ وغیرہ اور وہاں ڈاک خانہ بھی ہو اور پولیس کا تھانہ یا چوکی بھی ہو اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں ، پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں گی وہاں جمعہ صحیح ہوگا ،ورنہ صحیح نہ ہوگا۔
لہٰذا سائل کو چاہیۓ کہ علاقۂ مذکور یا قرب و جوار کے علماءِ کرام سے رجوع کرکے مذکور گاؤں میں شرائطِ جمعہ پائے جانے کی تصدیق کروائے، اس کے بعد اگر علماءِ کرام کی تصدیق سے یہ معلوم ہو کہ وہاں جمعہ کی شرائط پائی جاتی ہیں تو متعدد جگہوں میں بھی نمازِ جمعہ کی ادائیگی درست ہوگی۔
فی حاشية ابن عابدين : عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك و أسواق و لها رساتيق و فيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته و علمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث و هذا هو الأصح اهـ(2/ 137)۔
و فیه أیضاً : و عبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات و القرى الكبيرة التي فيها أسواق اھ (2/ 138)۔
و فی الفتاوى الهندية : و كما يجوز أداء الجمعة في المصر يجوز أداؤها في فناء المصر و هو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر و من كان مقيما بموضع بينه و بين المصر فرجة من المزارع و المراعي نحو القلع ببخارى لا جمعة على أهل ذلك الموضع و إن كان النداء يبلغهم و الغلوة و الميل و الأميال ليس بشيء هكذا في الخلاصة . (1/ 145)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله على المذهب) فقد ذكر الإمام السرخسي أن الصحيح من مذهب أبي حنيفة جواز إقامتها في مصر واحد في مسجدين و أكثر ، به نأخذ لإطلاق «لا جمعة إلا في مصر» شرط المصر فقط ، و بما ذكرنا اندفع ما في البدائع من أن ظاهر الرواية جوازها في موضعين لا في أكثر و عليه الاعتماد اهـ فإن المذهب الجواز مطلقا بحر اھ (2/ 145)۔
و فی الفتاوى الهندية : و تؤدى الجمعة في مصر واحد في مواضع كثيرة و هو قول أبي حنيفة و محمد - رحمهما الله تعالى - و هو الأصح و ذكر الإمام السرخسي أنه الصحيح من مذهب أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - و به نأخذ ، هكذا في البحر الرائق . (1/ 145)۔