محترم مفتی صاحب اس بارےرہنمائی فرمادیں کہ ایک گاؤں کی مسجد میں تقریباً 22-24سال پہلے باقی گاؤں کی دیکھا دیکھی نماز جمعہ ادا ہوتی رہی بعد میں کسی وجہ سے موجودہ امام صاحب نے امامت چھوڑ دی بعد میں آنے والے امام نے عیدین کی نماز تو جاری رکھی مگر نماز ِ جمعہ کی بجائے نماز ظہر ادا کرنے لگے، 4 سال بعد دوبارہ پہلے والے امام صاحب مصلیٰ امامت پر فائز ہوئے (جو دیوبندی مسلک رکھتے ہیں) انہوں نے دوبارہ جمعہ کی نماز شروع نہیں کرائی، اب نمازی حضرات اور گاؤں والے امام صاحب کو جمعہ کےلئےمجبور کررہے ہیں کہ ساتھ والے گاؤں میں بھی جمعہ ہوتا ہے آپ بھی پڑھائیں ,دلیل یہ دیتے ہیں کہ پہلے بھی تو پڑھاتے تھے تو اب امام صاحب کا رد عمل کیا ہونا چاہئیے، رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ عندالاحناف اصل یہ ہے کہ گاؤں میں جمعہ صحیح نہیں، اور شہر یا شہرکے مضافات اور بڑے قصبات میں صحیح ہے، قصبہ کی تعریف ہمارے عُرف میں یہ ہے کہ جہاں کی آبادی تین،چار ہزار کے قریب یا اس سے بھی زیادہ ہو اور ایسا بازار موجود ہو جس میں دکانیں چالیس پچاس متصل ہوں، اور بازار روزانہ لگتا ہو، اور اس بازار میں ضروریاتِ روز مرہ ملتی ہوں، مثلاً جوتے کی دکان ہو، کپڑے کی بھی، عطار کی بھی، بزاز کی بھی، غلہ کی دکان، اور دودھ گھی وغیرہ کی بھی دکانیں ہوں، اور وہاں ڈاکٹر یا حکیم بھی ہو، معمار اور مستری بھی ہو، وغیرہ وغیرہ اور ڈاکخانہ بھی ہو، اور پولیس کا تھانہ چوکی بھی ہو اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے مشہور ہوں، پس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہونگی وہاں جمعہ صحیح ہوگا، ورنہ نہیں، لہذا مذکور گاؤں میں اگر مذکور شرائط نہ پائی جاتی ہوں، تو اس میں نہ پہلے جمعہ جائز تھا، نہ اب جائز ہے۔
كما في الهنديه: (ولأدائها شرائط في غير المصلي) . منها المصر هكذا في الكافي، والمصر في ظاهر الرواية الموضع الذي يكون فيه مفت وقاض يقيم الحدود وينفذ الأحكام وبلغت أبنيته أبنية منى هكذا في الظهيرية وفتاوى قاضي خان (ج 1 ص (145)