ایک آدمی نے کفریہ کلمات کہے، اس کے بعد چونکہ اس کا نکاح ٹوٹ گیاہے، ان کا تجدیدِ نکاح اگر اس طرح کیا جائے کہ عورت کہے کہ میں اپنے آپ کو تمہارے نکاح میں 5000 روپے مہر کے عوض دیتی ہوں اور شوہر کہے کہ میں نے قبول کیا دوگواہوں کی موجودگی میں، تو کیا نکاح درست ہوگا؟
کفریہ کلمات ادا کرنے کے بعد مذکور شخص نے اگر توبہ کرلی ہو اور کلمہ پڑھ کر ازسر نو مسلمان ہوچکا ہو تو سوال میں مذکور طریقہ سے نکاح کرنا شرعاً درست منعقد ہوگا۔
کما فی الھدایة فی شرح البدایة: لعلی بن ابی بکر الفرغانی المرغینانی، ابی الحسن برھان الدین(المتوفی:593): وینعقد بلفظین یعبر باحدھما عن الماضی وبالآخر عن المستقبل مثل ان یقول زوجنی فیقول زوجتک اھ (1/185)۔