نکاح

مرتد ہوکر اسلام لانے کے بعد تجدیدِ نکاح کی صورت

فتوی نمبر :
39190
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

مرتد ہوکر اسلام لانے کے بعد تجدیدِ نکاح کی صورت

ایک آدمی نے کفریہ کلمات کہے، اس کے بعد چونکہ اس کا نکاح ٹوٹ گیاہے، ان کا تجدیدِ نکاح اگر اس طرح کیا جائے کہ عورت کہے کہ میں اپنے آپ کو تمہارے نکاح میں 5000 روپے مہر کے عوض دیتی ہوں اور شوہر کہے کہ میں نے قبول کیا دوگواہوں کی موجودگی میں، تو کیا نکاح درست ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کفریہ کلمات ادا کرنے کے بعد مذکور شخص نے اگر توبہ کرلی ہو اور کلمہ پڑھ کر ازسر نو مسلمان ہوچکا ہو تو سوال میں مذکور طریقہ سے نکاح کرنا شرعاً درست منعقد ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھدایة فی شرح البدایة: لعلی بن ابی بکر الفرغانی المرغینانی، ابی الحسن برھان الدین(المتوفی:593): وینعقد بلفظین یعبر باحدھما عن الماضی وبالآخر عن المستقبل مثل ان یقول زوجنی فیقول زوجتک اھ (1/185)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدابراہیم خلیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 39190کی تصدیق کریں
0     604
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات