السلام علیکم!
آج کل پاکستان اور دنیا کے حالات سے آپ بخوبی باخبر ہیں ،لہذا میرا ایک سوال جو کہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، تو آپ اس سوال کا جواب عنایت فرما دیجئے، میرا سوال یہ ہے کہ پچھلے جمعہ سے گورنمنٹ سندھ کی طرف سے اجتماعات پر پابندی ہے اور شہر کی بہت سی مسجدوں میں عام افراد کے مسجد آنے پر پابندی ہے اور لوگ جمعہ سے محروم ہیں اور آج بھی اعلان ہوا یہ کہ اگلے جمعہ بھی پابندی ہوگی ایسے میں ہمارا جمعہ ادا نہیں ہوسکےگا. لہذا شریعت کی رو سے ہم پر کیا گناہ ہوگا یا نہیں؟ اگر ایسے میں ہم گھر میں عام نماز کے علاوہ گھر میں عربی خطبہ دے کر جماعت کی شکل میں گھرکے افراد جمعہ ادا کریں تو کیا ہمارا جمعہ ادا ہوگا؟
واضح ہو کہ جمعہ کی نماز فرضِ عین ہے، اور باجماعت پانچ وقت کی نمازیں پڑھنا مفتیٰ بہ قول کے مطابق واجب ہے، محض بیماری کے ایک موہوم اندیشے سے لوگوں کو جمعہ اور جماعت سے روکنا کسی بھی مسلم حاکم کے لئے جائز نہیں، البتہ جو لوگ واقعۃْ اس مرض میں مبتلاء ہوں ان کو مسجد آنے سے روکا جاسکتا ہے، جبکہ کسی ملک میں اگر واقعی وبائی صورت بن گئی ہو، تو حکومت احتیاطی تدبیر کے طور پر لوگوں کو اس بات کا پابند کرسکتی ہے کہ صرف خطبہ اور نماز میں شرکت کی حد تک مسجد میں ٹھہریں، اور فرائض سے پہلے اور بعد والی سنتیں گھر پر ادا کرنے کا اہتمام کریں، تاہم اگر حاکمِ وقت نے حالات کے پیش نظر عارضی طور پر مساجد میں جمعہ اور جماعت پر پابندی لگادی ہو جیسا کہ سوال سے واضح ہے اور وہ اپنا فیصلہ واپس لینے یا بات سننے کے لئے تیار نہ ہو، تو لوگ متفرق طور پر گھروں میں جماعت کے ساتھ یا تنہا نماز پڑھنے کا اہتمام کریں، جبکہ جمعہ کی نماز کے لئے بھی امام کے علاوہ تین تین ، چار چار کے گروپ بن کر مسجد کے علاوہ کسی بھی جگہ عام اجازت دیکر نماز جمعہ پڑھ سکتے ہیں۔
كما في مسند الشافعى: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ كُتِبَ مُنَافِقًا فِي كِتَابٍ لَا يُمْحَى وَلَا يُبَدَّلُ وَفِي بَعْضِ الْحَدِيثِ: «ثَلَاثًا» - اهـ (70/1)
وفي الدر المختار: هي (فرض) عين يكفر جاحدها لثبوتها بالدليل القطعي كما حققه الكمال وهي فرض مستقل أكد من الظهر - الخ (137/2)
وفي الشامية: (قوله بالدليل القطعي) وهو قوله تعالى - يا أيها الذين آمنوا إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا} [الجمعة: 9] الآية - وبالسنة والإجماع (قوله كما حققه الكمال) وقال بعد ذلك وإنما أكثرنا فيه نوعا من الإكثار لما نسمع عن بعض الجهلة أنهم ينسبون إلى مذهب الحنفية عدم افتراضها، ومنشأ غلطهم قول القدوري ومن صلى الظهر يوم الجمعة في منزله ولا عذر له كره و جازت صلاته وإنما أراد حرم عليه وصحت الظهر لما سيأتي قوله أكد من الظهر) أي لأنه ورد فيها من التهديد ما لم يرد في الظهر من ذلك قوله - صلى الله عليه وسلم - " من ترك الجمعة ثلاث مرات من غير ضرورة طبع الله على قلبه» رواه أحمد والحاكم وصححه، فيعاقب على تركها أشد من الظهر ويثاب عليها أكثر ولأن لها شروطا ليست للظهر تأمل - اه (137/2)۔
و في الدر المختار: (و) السادس: (الجماعة) وأقلها ثلاثة رجال ولو غير الثلاثة الذين حضروا الخطبة (سوى الإمام بالنص لأنه لا بد من الذاكر وهو الخطيب وثلاثة سواه بنص - فاسعوا إلى ذكر الله} [الجمعة: 9] - اه (151/2)
و في الهندية: ولو تعذر الاستئذان من الإمام فاجتمع الناس على رجل يصلي بهم الجمعة جاز، كذا في التهذيب الى (قوله الإمام إذا منع أهل المصر أن يجمعوا لم يجمعوا قال الفقيه أبو جعفر - رحمه الله تعالى - هذا إذا نهاهم مجتهدا بسبب من الأسباب وأراد أن يخرج ذلك الموضع من أن يكون مصرا فأما إذا نهاهم متعنتا أو ضرارا بهم فلهم أن يجتمعوا على رجل يصلي بهم الجمعة، كذا في الظهيريةاھ(146/1)