السلام علیکم! حضور ایک سوال ہے کہ موجودہ حالات میں گورنمنٹ کی نمازِ جمعہ پر پابندی کی وجہ سے ہم نے اپنی مسجد میں جہاں عام حالات میں جمعہ کی نماز نہیں ادا کی جاتی ، ایک محدود اور آٹھ سے دس بندوں نے باقاعدگی سے نمازِ جمعہ ادا کی، اب کچھ عناصر یہ باتیں کر رہے ہیں کہ جس جگہ ایک بار جمعہ ہو جائے وہاں جمعہ پڑھنا فرض ہو جاتا ہے؟ براہِ کرم راہ نمائی فرما دیں۔
سائل نے جس جگہ معروضی حالات کی وجہ سے آٹھ دس افراد کے ساتھ مل کر نمازِ جمعہ کی ہے اگر وہ مسجد کسی شہر یا قصبہ کی حدود میں واقع ہو اور اس میں نمازِ جمعہ کی کھلی اجازت بھی ہو تو وہاں نمازِ جمعہ پڑھنا درست ہوا ہے، مگر ایک مرتبہ کسی چھوٹی مسجد میں نمازِ جمعہ پڑھنے سے وہاں مستقل جمعہ کی ادائیگی شرعاً لازم نہیں ہوتی، چنانچہ اب حالات ٹھیک ہونے کے بعد قریبی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ پڑھنا بھی درست ، بلکہ زیادہ باعث اجر وثواب ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين: ويصح بانتفاء شروط الوجوب (إلی قوله) وإذن كذا جمع لشرط أدائها اھ (2/ 137)
وفیه أیضاً: والإذن العام وهو أن تفتح أبواب الجامع ويؤذن للناس،حتى لو اجتمعت جماعة في الجامع وأغلقوا الأبواب وجمعوا لم يجز اھ(2/ 152) واللہ أعلم بالصواب!